شامی کرد پسپا نہ ہوئے تو امریکی حمایت سے محروم ہوجائیں گے: بائیڈن

ترکی کا امریکا سے ایک مرتبہ پھر فتح اللہ گولن کی بے دخلی کا عمل جلد مکمل کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن نے شامی کرد فورسز کو خبردار کیا ہے کہ وہ دریائے فرات کے اس پار چلی جائیں اور اگر وہ پسپا نہ ہوئے تو امریکی حمایت سے محروم ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات انقرہ میں ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کے ساتھ بدھ کو ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔جو بائیڈن نے واضح انداز میں کہا ہے کہ ''اگر وہ (شامی کرد جنگجو) اس وعدے کو پورا نہیں کرتے ہیں تو پھر وہ کسی بھی صورت میں امریکا کی حمایت حاصل نہیں کرسکیں گے''۔

امریکی نائب صدر نے ترک فورسز کی بدھ کو شام کے ایک سرحدی شہر جرابلس میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی بالواسطہ انداز میں حمایت کا اظہار کیا ہے۔اس کارروائی کا ایک مقصد کردوں کو شمالی شام میں مزید پھیلنے سے روکنا بھی ہے۔

اس موقع پر بن علی یلدرم نے کہا کہ ترکی شام کے اندر ایک نئے کرد علاقے کی تخلیق کو تسلیم نہیں کرسکتا۔اس ملک کی علاقائی خود مختاری برقرار رکھی جانی چاہیے اور جنگ زدہ ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے کوئی مشترکہ حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

ترک وزیراعظم اور امریکی نائب صدر نے ترکی میں 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ترکی امریکا میں مقیم عالم دین فتح اللہ گولن پر اس سازش کا مرکزی کردار ہونے کا الزام عاید کر رہا ہے۔بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ امریکا اور ترکی کو اس طرح کے واقعات کو اپنے دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت یہ توقع کرتی ہے کہ فتح اللہ گولن کی بے دخلی کا عمل کسی تاخیر کے بغیر مکمل کیا جائے گا۔جو بائیڈن نے ان کی اس بات کے جواب میں کہا کہ وہ ترکی میں عالم کے بارے میں شدت جذبات کو سمجھتے ہیں۔انھوں نے ناکام فوجی بغاوت کے فوری بعد ترکی کا دورہ نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ''ہم ترک حکام کے ساتھ تعاون کررہے ہیں لیکن اس عمل میں قانونی معیارات کو پورا کیا جانا چاہیے''۔جو بائیڈن نے ترکی کو یقین دلایا کہ ''امریکا ایک ایسے شخص کے تحفظ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا جو ہمارے اتحادی کو نقصان پہنچاتا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں