منفرد سائنسی منصوبے پر ایران، پاکستان اور اسرائیلی ماہرین طبعیات متحد!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشرق وسطیٰ میں طبیعیات کے تجربات کے لیے مادے کے مہین ذروں کو تیز حرکت دینے کے لیے سرن کی طرز پر تجربہ گاہ قائم کی جائے گی۔

اس سے زیادہ خبری اہمیت کی بات یہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں بہت سے ایسے ممالک حصہ لے رہے ہیں جن کا مل کر کام کرنا عام حالات میں ممکن نہیں۔ ان ممالک میں پاکستان، اسرائیل، ایران، اردن، بحرین، ترکی، قبرص اور فلسطینی اتھارٹی شامل ہیں۔ اس منصوبے کو مشرق وسطیٰ میں تعاون کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق اس مشین کو’سی سامی‘ کانام دیا گیا ہے۔ یہ جدیدترین الیکٹران ایکسلریٹر مشین اردن کے دارلحکومت عمان شہر سے 19 میل کے فاصلے پر نصب ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق ذروں کو تیز حرکت دینے والی یہ مشین دراصل ایٹم کے ذیلی ذرات کو روشنی کی رفتار سے حرکت دے کر انہیں آپس میں ٹکراتا ہے تاکہ مادے کے انتہائی بنیادی اسٹرکچر کا پتہ چلایا جا سکے۔ اس طرح سے کائنات کی ابتدا، اس کے پھیلنے اور بگ بینگ کے حوالے سے اٹھنے والے سوالوں کے جواب مل پائیں گے۔

اس سے حاصل ہونے والے نتائج کا اطلاق ماحولیا ت، حیاتیات، کیمیا اور آثار قدیمہ کے شعبوں پر کیا جا سکے گا۔ دنیا بھر میں ذروں کو حرکت دینے کے درجنوں ماڈل کام کر رہے ہیں لیکن سی سامی میں 2.5 جنریشن ماڈل تعمیر کیا جائے گا یہ ایسا ہی ماڈل ہے جیسا کینیڈا اور آسٹریلیا میں کام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں