امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازعہ ختم کرنے کے لیے کی گئی مفاہمتی یادداشت "ختم ہو گئی ہے" نیز یہ کہ وہ تہران سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔
پاکستان کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان عبوری جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کا مقصد مستقل معاہدے پر مذاکرات کے لیے 60 دن کا وقت فراہم کرنا تھا لیکن قطر میں بالواسطہ مذاکرات گذشتہ ہفتے بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے اور امریکی فوج نے منگل کو ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ٹرمپ نے کہا، "میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے نزدیک ختم ہو گیا ہے۔ میں ان سے معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔"
انہوں نے سیکریٹری جنرل نیٹو مارک روٹے کے ہمراہ مزید کہا، "وہ ناخوشگوار ہیں۔ وہ بیمار لوگ ہیں۔ ان کی قیادت بیمار لوگ کر رہے ہیں۔"
نیز کہا، "جہاں تک میرا تعلق ہے، ان سے معاملہ کرنے میں صرف وقت کا ضیاع ہے۔"
منگل کے روز آبنائے ہرمز میں تین ٹینکرز کے حملوں کی زد میں آنے کے بعد امریکہ نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والا لائسنس بھی منسوخ کر دیا۔
امریکہ-ایران عبوری معاہدے کے تحت امریکی وزارتِ خزانہ نے 22 جون کو ایک عام لائسنس جاری کیا جس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور پیٹرو کیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔ منگل کو لائسنس منسوخ کرتے ہوئے امریکہ نے کوئی بھی لین دین ختم کرنے کے لیے ایران کو 17 جولائی تک کا وقت دے دیا۔