شارجہ سے کراچی آنے والا ’کے ٹو ائیرویز‘ کا ایک مال بردار یعنی کارگو طیارہ کراچی کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں عملے کے تمام پانچ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایوی ایشن ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بوئنگ 737 طیارہ شارجہ سے سامان لے کر کراچی کی طرف آ رہا تھا اور رات کے وقت اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے عملے کے تمام پانچوں ارکان پاکستانی شہری تھے جو اس حادثے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
Pakistan Airports Authority reports a search and rescue operation has been launched at sea to locate the aircraft and five crew members who were onboard. https://t.co/u4LaYVaurq
— Flightradar24 (@flightradar24) July 7, 2026
ایوی ایشن حکام نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ رات نو بج کر اٹھارہ منٹ پر کے ٹو ائیرویز کی پرواز نے اپنے راستے پر سفر کے دوران نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی، جس پر کراچی کے کنٹرول ٹاور نے فوری طور پر پائلٹ کی رہنمائی شروع کی تھی۔
لیکن اس کے ٹھیک تین منٹ بعد، یعنی رات نو بج کر اکیس منٹ پر، جہاز اچانک ریڈار پر بہت تیزی سے نیچے کی طرف گرتا ہوا دکھائی دیا اور اس کا رخ بھی تیزی سے بدلا۔
اس کے فوراً بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل دور مغرب کی طرف سمندر کے اوپر طیارے کا ریڈار سے رابطہ پوری طرح ٹوٹ گیا۔
طیارے کے لاپتا ہونے کے فوراً بعد پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی(پی اے اے) کی جانب سے ہنگامی امدادی مرکز کو متحرک کیا گیا اور مختلف اداروں کی مدد سے سمندر میں ایک بڑا سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ طیارہ اورماڑا کے قریب سمندر کے اوپر پرواز کر رہا تھا جب یہ لاپتا ہوا۔
بعد میں ریسکیو اداروں کی جانب سے یہ افسوسناک تصدیق کی گئی کہ جہاز میں سوار عملے کا کوئی بھی فرد زندہ نہیں بچ سکا۔
سول ایوی ایشن نے جاں بحق ہونے والے تمام پانچوں پاکستانیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں جہاز کے کپتان محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل جتوئی، فلائٹ انجینئرز محمد حامد اور محمد عارف صدیقی، اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔