بغاوت کے کرداروں کو کٹہرے میں لانے میں ترکی کی مدد کریں گے:اوباما
امریکی صدر باراک اوباما نے یقین دلایا ہے کہ ان کا ملک وسط جولائی میں ترکی میں منتخب حکومت اور صدر ایردوآن کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے انقرہ کی مدد کریں گے۔
چین کے شہر ہانگ زو میں ’G20‘ اجلاس کے موقع پر ترک صدر طیب ایردوآن کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’ہم ترکی کو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش تیار کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں انقرہ کی مدد کی جائے گی‘۔
خیال رہے کہ ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ وسط جولائی کو فوج کے ایک گروپ کی طرف سے بغاوت کی ناکام کوشش کے پیچھے امریکا میں مقیم جلا وطن مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم کا ہاتھ ہے۔
ترکی نے متعدد بار امریکا سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے مگر مریکی حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ کی طرف سے ٹھوس ثبوت ملنے کے بعد ہی گولن کو حوالے کیا جائے گا۔ ترکی میں بغاوت کی ناکامی کےبعد صدر ایردوآن اور اوباما کی پہلی براہ راست ملاقات ہے۔
-
اوباما بیرون ملک کارروائیوں کی اجازت کیسے دیتے ہیں؟
کئی سال تک صیغہ راز میں رہنے کے بعد حال ہی میں سامنے آنے والی ایک اہم ترین دستاویز ...
بين الاقوامى -
امریکا استنبول میں تباہ کن حملے کے بعد ترکی کے ساتھ کھڑا ہے: صدر اوباما
صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا استنبول کے مرکزی ہوائی اڈے پر خودکش بم دھماکوں ...
بين الاقوامى -
ولادی میر پوتین اور براک اوباما میں شام پر رابطے بڑھانے پر اتفاق
روسی صدر ولادی میر پوتین اور امریکی صدر براک اوباما نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ...
بين الاقوامى