کیا "جاسٹا" پر اوباما انتظامیہ اور کانگریس متصادم ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وہائٹ ہاؤس کے اندر امریکی انتظامیہ کے ذمہ داران اور ڈیموکریٹک ارکان پارلیمنٹ کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کے طویل ترین دور جاری ہیں۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے سرپرستوں کے خلاف قانون "JASTA" پر نظرثانی کے لیے ووٹ دیا تھا۔ اس حوالے سے اوباما انتظامیہ اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ سے بچنے کے لیے دوسرا راستہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس قانون کی وجہ سے امریکی ذمہ داران میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیوں کہ دیگر ممالک بھی اس قانون کے مماثل قانون بنا سکتے ہیں۔ اس طرح دنیا کا کوئی بھی شخص کسی بھی ملک کی عدالت میں امریکی حکومت کے خلاف عدالتی کارروائی کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی جانب سے منظور کیے جانے والے قانون "جاسٹا" کے خلاف ویٹو اختیار استعمال کرنے کا واضح عندیہ دے چکے ہیں۔ اس قانون کے تحت 11 ستمبر کے حملوں کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ امریکی عدالتوں میں ان ملکوں کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتے ہیں جو اپنے شہریوں کو امریکا میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث کرتے ہیں۔

توقع ہے کہ کانگریس اس قانون کے بل کو آئندہ ہفتے کے روز وہائٹ ہاؤس بھیجے گا جہاں 10 روز کے اندر وہائٹ ہاؤس کو اس کو منظور کر کے یا مسترد کر کے جواب دینا ہوگا۔ صدر کا جواب پہلے سینیٹ کو ارسال کیا جائے گا ، بعد ازاں سینیٹ کی قیادت صدارتی ویٹو پر رائے شماری کی تاریخ مقرر کریں گے۔

ماہرین کے خیال میں رائے شماری 8 نومبر کو صدارتی انتخابات کے بعد ہی عمل میں آئے گی۔

واضح رہے کہ اوباما کی جانب سے ویٹو کا اختیار استعمال کرنے کی صورت میں بھی کانگریس کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ صدارتی ویٹو کو تجاوز کرتے ہوئے قانون جاری کر دے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان دو تہائی اکثریت سے اس کی دوبارہ منظوری دیں۔

خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے امریکی کانگریس کی جانب سے (دہشت گردی کے سرپرستوں کے خلاف انصاف کا قانون) جاری قانون پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ بالخصوص ملکوں کے درمیان خودمختاری میں مساوات کا بنیادی اصول جو اقوام متحدہ کے منشور کے متن میں بھی شامل ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی اس قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امارات کے وزیر خارجہ الشيخ عبد الله بن زايد آل نہیان کا کہنا ہے کہ یہ قانون عمومی شکل میں ذمہ داری کے قواعد اور ضوابط سے اورملکوں کو حاصل خودمختاری کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔

اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی (پٹرا) کے مطابق اردن کی حکومت نے کانگریس کی جانب سے منظور کیے جانے والے قانون کے نتائج کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ قانون اس مرحلے پر انسداد دہشت گردی کے بین الاقوامی تعاون پر منفی طور اثرانداز ہوسکتا ہے جب کہ اسے اعلی سطح کی کوآرڈینیشن اور مشترکہ عمل کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ مراکش نے امریکی کانگریس کی جانب سے منظور کیے جانے والے قانونی بل کو "امریکا کے دوست ممالک کو نشانہ بنانے والا اور ان کی ساکھ مسخ کرنے والا" قرار دیا۔ مزید واضح کیا گیا ہے کہ یہ قانون انسداد دہشت گردی کے میدان میں بین الاقوامی کوششوں کو کمزور کرسکتا ہے۔

ادھر رابطہ عالم اسلامی اور مسلم علماء کے عالمی اتحاد نے کانگریس کی جانب سے اس طرح کا قانون جاری کرنے پر انتہائی تشویس کا اظہار کیا ہے۔ یہ قانون اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی واضح اور صریح مخالفت کرتا ہے کیوں کہ یہ بین الاقوامی تعلقات کی بنیادوں کے متضاد ہے جن میں خودمختاری میں مساوات کے بنیادی اصول ، ریاست کی مامونیت ، متبادل احترام اور کسی بھی ملک کے داخلی قوانین کا کسی دوسرے ملک پر عدم اطلاق شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں