تہران میں سابق ایرانی مرشد علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں ایرانی عوام بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں اور کئی سیاسی رہنما بھی موجود ہیں۔
آج جمعے کو لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ارکانِ پارلیمنٹ سابق مرشد کو الوداع کہنے کے لیے تہران پہنچے۔ تنظیم کے موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ اور رہنماؤں کو تابوت کے سامنے آنسو بہاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان رہنماؤں میں محمد فنیش اور محمود قماطی شامل تھے۔
حضور خانواده شهید سیدحسن نصرالله و جمعی از فرماندهان مقاومت لبنان در مصلای تهران برای ادای احترام به پیکر مطهر رهبر شهید انقلاب https://t.co/r0vaS8Pgvb pic.twitter.com/avieaK6ngi
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) July 3, 2026
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی ذرائع نے واضح کیا کہ تنظیم کے سابق سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے اہل خانہ بھی اس موقع پر موجود ہیں۔
شہر میں سرکاری تعزیت کی تقریبات ہفتے کے روز شروع ہوں گی، جس میں لاکھوں ایرانیوں کی شرکت متوقع ہے۔ خامنہ ای کا تابوت تہران کے بڑے مصلیٰ (مصلیٰ امام خمینی) میں رکھا گیا ہے۔
یہ تقریبات آئندہ پیر تک جاری رہیں گی، جس کے بعد خامنہ ای کی میت کو قُم شہر اور پھر عراق لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں آئندہ جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد میں دفن کیا جائے گا۔
ادھر ایران نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی فضائی حدود کو کئی دنوں تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ خامنہ ای 28 فروری کو ایک اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے جس نے دارالحکومت تہران میں ان کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک وسیع جنگ شروع کر دی تھی جو پانچ ہفتوں سے زائد جاری رہی، یہاں تک کہ اپریل کے اوائل میں واشنگٹن اور تہران کے نمائندوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
اس جنگ کے نتیجے میں درجنوں جرنیل اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، نیز نمایاں ایرانی سیاست دان اور وزراء مارے گئے۔