.

شام میں اغوا جرمن صحافیہ شیرخوار بیٹی سمیت فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل شام میں اغواء ہونے والی ایک جرمن صحافیہ جس نے دوران حراست بیٹی کو جنم دیا تھا اپنی شیرخوار بیٹی کے ہمراہ فرار ہو کر ترکی پہنچ گئی ہے۔

جرمن وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں اغواء کاروں کے چنگل سے نکل پرترکی پہنچنے والی خاتون اور اس کی شیرخوار بیٹی جرمن قونصل خانے میں جرمن فیڈرل پولیس کی نگرانی میں ہیں اور دونوں ماں بیٹی کی حالت اب کافی بہتر ہے۔

قبل ازیں کثیرالاشاعت جرمن اخبار بیلد نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ شام میں اغواء کی جانے والی جرمن صحافیہ اخبار ’’سوڈ ڈوئچے زایٹونگ‘‘ اور ’این ڈی آر‘ ریڈیو وٹیلی ویژن کارپوریشن کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم ’’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘‘ نے جرمن صحافیہ کی شام میں عسکریت پسندوں کے چنگل سے رہائی کی خبر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

صحافتی تنظیم کے ڈائریکٹر کریسٹن میر کا کہنا ہے کہ ’جرمن صحافیہ کے فرار کی خبر نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ شام کی جنگ میں صحافیوں کو کس نوعیت کے سنگین خطرات کا سامنا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کے ذرائع ابلاغ کی طرف سے صحافیہ کے اغواء کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھنا باعث حیرت اور تشویشناک ہے۔

جرمن حکومت نے بھی صحافیہ کہ بہ حفاظت واپسی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خٰارجہ کا کہنا ہے کہ شام کا بحران اب بھی پہلے ہی کی طرح گھمبیر اور خطرات میں گھرا ہوا ہے۔

قبل ازیں اخبار فوکاس نے فروری میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا اکتوبر2015 ء میں شام سے ایک 27سالہ خاتون رپوٹر کو ایک گروپ نے اغوا کیا ہے۔ مغویہ کی شناخت یانینا فینڈایزل کے نام سے کی گئی ہے۔ تاہم وہ اپنے فرضی نام ماری کے نام سے لکھتی رہی ہیں۔ پچھلے سال دسمبر میں اس نے ایک بچی کو جنم دیا تھا۔