.

سلامتی کونسل : شام سے متعلق روسی قرار داد اکثریت سے مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی جانب سے شام بالخصوص حلب میں فائر بندی سے متعلق فرانس اور اسپین کی قرارداد کو ویٹو کیے جانے کے بعد ، روس کی جانب سے شام میں فائر بندی کے معاہدے کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد بھی ناکامی سے دوچار ہو گئی۔ قرارداد کے حق میں منظوری کے لیے مطلوب کم از کم نو ووٹ بھی نہ مل سکے۔

سلامتی کونسل میں قرار داد کی منظوری کے لیے لازم ہے کہ کم از کم نو ارکان کی جانب سے منظوری کا ووٹ دیا جائے اور پانچ مستقل ارکان میں سے کوئی اس کو ویٹو نہ کرے۔

سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے ممالک امریکا ، فرانس ، برطانیہ ، روس اور چین ہیں۔

ہفتے کے روز ہونے والی رائے شماری میں روسی قرار داد کو صرف چار ووٹ حاصل ہوئے جب کہ نو ممالک نے اس کی مخالفت کی اور دو ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا۔ لہذا اس کی منظوری کو روکنے کے لیے ویٹو کے استعمال کی ضرورت نہیں پیش آئی۔

روس کی جانب سے پیش کردہ قرار داد میں تمام فریقوں سے حلب میں فائر بندی اور انسانی امداد کا سامان پہنچانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس میں شہر پر عسکری فضائی پروازیں روکنے کی جانب کوئی اشارہ نہیں تھا۔ اس سے قبل فرانس کی قرار داد کے متن میں حلب میں فضائی بم باری روکے جانے کے ساتھ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ روس نے پہلے ہی مذکورہ قرار داد کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔