دوحہ ملاقات شاید اہم ہو ، اس کا علم بعد میں ہو گا : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ منگل کے روز ہونے والی متوقع ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شاید ایک اہم ملاقات ہو گی۔

انہوں نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس کے نتائج بعد میں واضح ہوں گے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایرانی حکام نے منگل کو دوحہ میں منعقد ہونے والی ملاقات کی درخواست کی ہے، جبکہ تہران نے اعلان کیا ہے کہ ایک تکنیکی وفد امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے اس ہفتے قطر کا دورہ کرے گا۔

ٹرمپ کا یہ اعلان ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے بعد از جنگ انتظام پر اپنی نوعیت کی پہلی دو طرفہ بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے... اور ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران گذشتہ ہفتے کے آخر میں دوبارہ شروع ہونے والے باہمی حملوں کو روکنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

اس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کے لیے دوحہ روانہ ہوں گے۔

دریں اثنا مذاکرات سے واقف ایک سفارت کار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو تصدیق کی کہ تکنیکی ٹیمیں آنے والے دنوں میں ملاقات کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسائل پر قابو پانے کے لیے مواصلاتی چینل بدستور کام کر رہے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ تکنیکی بات چیت مفاہمت کی یاد داشت کے تمام شعبوں کے بارے میں جاری رہے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریق فی الحال اپنے حملوں کو روک دیں گے اور بحری جہاز آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و نواح میں آزادی سے نقل و حرکت کر سکیں گے۔

دوسری جانب تہران نے تکنیکی ٹیموں کی سطح پر امریکیوں کے ساتھ بات چیت کے انعقاد کے منصوبوں کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک ماہر وفد اس ہفتے کے آخر میں دوحہ جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دورے کا مقصد مفاہمت کی یاد داشت کے تحت وعدوں پر عمل درآمد کی پیروی کرنا ہے۔ اس میں گیارہویں شق (منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی) بھی شامل ہے۔

ترجمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مسلسل کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جس کا تازہ ترین واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تجارتی جہاز رانی پر مسلسل ایرانی جارحیت کے سبب ایران کے 10 فوجی اہداف پر حملوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔ ادھر تہران نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر جوابی حملے کیے۔

آبنائے کو بند کرنے کا معاملہ امریکی ایرانی مذاکرات میں اختلاف کا اہم نقطہ بنا ہوا ہے، جبکہ تہران اور سلطنت عمان آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو سمندری قانون پر اقوام متحدہ کے کنونشن سے متصادم ہے۔ ایران نے اس کی توثیق نہیں کی ہے اور وہ بین الاقوامی آبنائے میں بغیر کسی رکاوٹ کے جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں