اولاند کے بیان کے باوجود پوتن پیرس کے دورے کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روسی ایوان صدر کرملن کے ترجمان ديمتری بيسكوف نے نے پیر کے روز بتایا ہے کہ روسی صدر ولادیمر پوتن اب بھی رواں ماہ کے دوران فرانس کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں اگرچہ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ یہ باور نہیں کرایا جاسکتا کہ آیا وہ پوتن کا استقبال کریں گے یا نہیں۔

بیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ "پوتن کے آئندہ دورے کے لیے تیاری جاری ہے"۔

اس سے قبل اولاند نے اتوار کے روز نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو کے کلپوں میں شام پر فضائی پر فضائی حملوں کے لیے ولادیمر پوتن کی (ناقابل قبول) سپورٹ کی سخت مذمت کی۔ اولاند کے مطابق وہ خود سے سوال کر رہے ہیں کہ آیا 19 اکتوبر کو پوتن کے پیرس کے دورے کے موقع پر وہ روسی صدر کا استقبال کرنے کے تیار ہیں۔

دوسری جانب فرانس کے وزیر خارجہ جون مارک ایرولٹ نے پیر کے روز کہا ہے کہ صدر فرانسوا اولاند پوتن سے ملاقات کے حوالے سے فیصلہ کرتے وقت شام کے شہر حلب کی صورت حال کو مدنظر رکھیں گے۔

ایرولٹ نے فرانسیسی ریڈیو (فرانس انٹرنیشنل) سے گفتگو میں کہا کہ ان کا ملک عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کرے گا کہ شام میں ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرائی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حلب پر روسی بم باری کے حوالے سے ہم آمادہ نہیں ہیں۔ فرانس پہلے سے کہیں زیادہ خود کو حلب کی آبادی کو بچانے کا پابند سمجھتا ہے"۔ ایرولٹ کے مطابق "اگر فرانسیسی صدر نے پوتن سے ملاقات کا فیصلہ کیا تو یہ بظاہر اچھے رویے کے تبادلے کے لیے نہ ہوگا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں