امریکی وزیر خزانہ کا نائن الیون جاسٹا قانون کے نفاذ پر انتباہ

جاسٹا سے امریکا اور خلیجی ممالک کے تعلقات کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے: جیکب لیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزیر خزانہ جیکب لیو نے خبردار کیا ہے کہ امریکا پر دہشت گردی کے حملوں کے متاثرین کو سعودی عرب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت دینے سے امریکا،خلیج تعلقات کے لیے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو خلیج تعاون کونسل کے چھے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ کے ساتھ اجلاس کے آغاز کے موقع پر کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جاسٹا کا اگر عالمی سطح پر نفاذ کیا جاتا ہے تو اس سے ریاستوں کے خود مختارانہ استثنا سے متعلق بین الاقوامی قانون میں وسیع تر تبدیلیاں آئیں گی اور ان کے ہمارے مشترکہ مفادات کے لیے منفی نتائج مرتب ہوں گے''۔

جیکب لیو نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اپنے اس عزم کو ثابت کرچکی ہے کہ لوگوں کو اسی وقت ذمے دار قرار دیا جانا چاہیے جب انھوں نے تباہ کن کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہو لیکن بین الاقوامی قانونی اصولوں کو سبوتاژ کیے بغیر اس قانونی چارہ جوئی کے اور بھی بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں۔

امریکی کانگریس میں ستمبر میں منظور کردہ جاسٹا قانون کے تحت نائن الیون کو طیارہ حملوں میں ہلاک شدگان تین ہزار افراد کے لواحقین اور زخمی افراد کے خاندانوں کو سعودی عرب کی حکومت کے خلاف مالی ہرجانے کے حصول کے لیے وفاقی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگیا ہے۔اس کا جواز محض یہ ہے کہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر طیاروں سے حملے کرنے والے القاعدہ کے انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

امریکاکے قانونی نظام کے تحت اس وقت دوسرے ملکوں کو خود مختارانہ استثنا حاصل ہے۔اس قانونی اصول کے تحت ان ملکوں اور ان کے سفارت کاروں کے خلاف امریکا کے قانونی نظام کے تحت قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی ہے لیکن امریکی کانگریس میں جاسٹا کی منظوری کے بعد اب یہ استثنا ختم ہو کر رہ جائے گا اور اب دہشت گردی کے واقعات کے ذمے دار قرار دیے جانے والے ممالک کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کیے جاسکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں