"وفاء النیل کا تہوار"… ماہرِ آثار قدیمہ نے دلہن کو دریا میں پھینکنے کی حقیقت بیان کر دی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہر سال اگست کے وسط میں مصر کا ایک قدیم ترین تہوار "وفاء النیل" آتا ہے، جو مصریوں کو دریائے نیل کے ساتھ اپنے انوکھے تعلق کی یاد دلاتا ہے۔

یہ تہوار محض ایک جشن نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ اور علامتی رسم ہے، جس میں ہزاروں سال پرانی کہانیاں اور روایات سمائی ہوئی ہیں، جب نیل کا سیلاب وادی کی زندگی اور بقا کا فیصلہ کرتا تھا۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ اور ماہرِ مصریات ڈاکٹر احمد عامر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ قدیم مصریوں نے ہر دور میں دریائے نیل کو مقدس مانا اور اسے اپنی زندگی اور خوش حالی کی شہ رگ سمجھا۔ وہ ہر سال اگست میں نیل کی زرخیزی اور خوش حالی بڑھانے کے لیے قربانیاں اور نذرانے پیش کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ قدیم مصری جانتے تھے کہ نیل ہی زندگی کا راز ہے، جو حبشی پہاڑیوں سے نیلِ ازرق کے ذریعے میٹھا پانی اور زرخیز مٹی لا کر زمین کو سیلاب کے موسم میں سیراب کرتا اور کھیتی باڑی کو نئی جان بخشتا ہے۔

مصر کے لوگ سیلاب کو ایک مقدس وقت سمجھتے تھے، اگر یہ وقت پر اور مناسب مقدار میں آتا تو خوشی چھا جاتی ورنہ تاخیر یا کمی کی صورت میں خشک سالی اور قحط کا خوف پیدا ہوتا۔

قدیم مصری عقیدے میں نیل محض پانی کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ ایک زندہ دیوتا "حابی" سمجھا جاتا، جو خیر و برکت کا رب تھا۔ اس کے لیے تشکر اور دعا کی خصوصی رسمیں ہوتی تھیں۔

اس دور میں "وفاء النیل" براہِ راست سیلاب کے موسم سے جڑا تھا، جو عموماً اگست کے وسط میں شروع ہو کر کئی ہفتے جاری رہتا۔ پجاری "مقیاس النیل" نامی آلے سے پانی کی پیمائش کرتے کہ آیا یہ کھیتی کے لیے کافی ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر عامر کے مطابق ایک مشہور روایت یہ تھی کہ سب سے خوبصورت لڑکی کو ریشم، سونا اور زیورات پہنا کر نیل میں بطور قربانی ڈال دیا جاتا تاکہ دیوتا حابی وافر پانی دے۔ اسے "عروس النیل" کہا جاتا تھا۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک کہانی ہے جسے قدیم مصریوں کے تخیل نے جنم دیا۔ نہ اس کا کوئی تاریخی ثبوت ہے اور نہ یہ معبدوں کے کتبوں یا پاپائرس میں ملتی ہے۔ اگر یہ حقیقت ہوتی تو نقوش اور تحریریں اسے لازماً بیان کرتیں۔

اگرچہ 1960 کی دہائی میں ہائی ڈیم بننے کے بعد سیلاب رک گیا، لیکن آج بھی مصری ہر سال اگست کے وسط میں "وفاء النیل" مناتے ہیں۔ اس میں ثقافتی و فنّی میلوں، دست کاری کی نمائشوں، لوک رقص و کہانیوں اور دریائے نیل کے تحفظ و کفایت شعاری کی مہم میں شامل ہیں۔

یہ تہوار آنے والی نسلوں کو یاد دلاتا ہے کہ نیل محض ایک دریا نہیں بلکہ مصر کی روح اور زندگی کی رگِ جاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں