.

یمنی صدرنے اقوام متحدہ ایلچی کا نیا امن منصوبہ مسترد کردیا

نئے امن لائحہ عمل میں حوثیوں کو نوازنے اور یمنی عوام کو سزا دینے کی کوشش کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی جانب سے ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے پیش کردہ نئے امن منصوبے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذریعے حوثی باغیوں کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ صدر منصور ہادی نے عالمی ایلچی کی جانب سے پیش کردہ نئی امن تجویز کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔عالمی ایلچی نے انھیں یہ تجویز سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران پیش کی تھی۔اس موقع پر یمن کے نائب صدر علی محسن صالح اور وزیراعظم احمد عبید بن دغر بھی موجود تھے۔

عالمی ایلچی نے یمن میں جاری بحران کے حل اور قیام امن کے لیے یہ نیا لائحہ عمل گذشتہ منگل کو حوثی باغیوں کو پیش کیا تھا۔تاہم ابھی تک اس کو میڈیا کے لیے جاری نہیں کیا گیا ہے۔صدر منصور ہادی کا کہنا ہے کہ یہ نئی تجویز ماضی میں بحران کے سیاسی حل کے لیے جن شرائط پر اتفاق کیا گیا تھا،ان پر مبنی نہیں ہے۔

یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا نیوز ڈاٹ نیٹ نے صدر ہادی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''اس نئے لائحہ عمل سے مصائب اور جنگ کا نیا دروازہ کھلے گا اور یہ کوئی امن کا نقشہ راہ نہیں ہے''۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ''ماضی میں پیش کردہ امن تجاویز کسی حد تک منطقی تھیں لیکن آج نقشہ راہ کے نام سے جو کچھ پیش کیا گیا ہے،اس سے صرف جنگ ہی کے بیج بوئے جائیں گے''۔

اس بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ صدر منصور ہادی نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے ملیشیاؤں کو نوازنے اور یمنی عوام کو سزا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔