.

امریکا : القاعدہ کی مدد گار یمنی کمپنی اور اس کے مالکان پر پابندیاں عاید

متحدہ عرب امارات کے مرکزی بنک نے بھی یمنی کمپنی کے اثاثے منجمد کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے یمن کی ایک کمپنی اور اس کے دو مالکان کے خلاف مالی پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان پر یمن میں برسر پیکار جنگجو گروپ ''جزیرہ نما عرب میں القاعدہ'' کو مالی رقوم مہیا کرنے کا الزام ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ مبینہ طور پر کمپنی آل اومجی اور برادرز منی ایکس چینج کو یمن بھر میں رقوم کی وصولی کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

اس کمپنی نے حال ہی میں القاعدہ کے اس گروپ کو اپنی تمام ترسیلات زر پر دس فی صد کمیشن دینے کا وعدہ کیا تھا۔امریکا نے اس کمپنی کے مالکان دونوں بھائیوں سعید صالح عبد ربہ آل اومجی اور محمد صالح عبد ربہ آل اومجی پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں۔دوسرا بھائی مبینہ طور پر القاعدہ کا رکن ہے۔

محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق سعید آل اومجی نے یمنیوں کو بھرتی کرنے ،تربیت دینے اور انھیں عراق میں مزاحمتی سرگرمیوں کے لیے بھیجنے کی غرض سے رقوم جمع کی تھیں جبکہ محمد آل اومجی نے مبینہ طور پر القاعدہ کے اس گروپ کو ہتھیار مہیا کیے تھے۔

نئے حکم نامے کے تحت اس یمنی کمپنی کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ کسی قسم کے لین دین پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔متحدہ عرب امارات کے مرکزی بنک نے بھی حال ہی میں اس کمپنی کے اثاثے منجمد کردیے ہیں اوراس کو یو اے ای کے مالیاتی نظام سے خارج کردیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے ایک سینیرعہدے دار ایڈم جے زوبن کا کہنا ہے کہ ''یہ پابندیاں گروپ کے مالی ذرائع بند کرنے اور اس کی متشدد حملوں کی صلاحیتوں کو کم تر کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں''۔

واضح رہے کہ امریکا جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو دنیا میں القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخ خیال کرتا رہا ہے۔اس گروپ نے گذشتہ برسوں کے دوران امریکا اور سعودی عرب کی سرزمین پر متعدد حملے کیے تھے۔اس کا ایک جنگجو سنہ 2009ء میں امریکی شہر ڈیٹرائٹ جانے والی ایک پرواز میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اس کو بم پھوڑنے سے قبل ہی پکڑ لیا گیا تھا۔اس نے بم اپنے زیر جامے میں چھپا رکھا تھا۔امریکا کے محکمہ خارجہ نے سنہ 2010ء میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔