.

جرمنی : داعش کے پانچ مشتبہ بھرتی کنندگان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں پولیس نے منگل کے روز چھاپا مار کارروائیوں کے دوران داعش کے پانچ مشتبہ بھرتی کنندگان کو گرفتار کر لیا ہے۔

جرمن پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ''ان پانچوں ملزمان نے ایک پان علاقائی سلفی جہادی نیٹ ورک تشکیل دے رکھا تھا اور ملزم احمد عبدالعزیز عبداللہ ان کا سربراہ تھا''۔اس بتیس سالہ شخص کا تعلق عراق سے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے زیر قیادت نیٹ ورک کا مقصد داعش میں بھرتی کے لیے لوگوں کو شام بھیجنا تھا۔ ان دو افراد ترک شہری حسن جی اور جرمن سرب بوبن ایس کو نئے بھرتی کنندگان کو عربی سکھانے اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

جرمن میڈیا کی اطلاع کے مطابق ان پانچوں افراد کو شمالی ریاست لوئر سیکسونی اور مغربی ریاست نارتھ رہین ویسٹ فالیہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔اس گروپ کے لیڈر احمد عبدالعزیز کو لوگوں کو شام بھیجنے کا انتظام کرنے کا اختیار حاصل تھا۔انھوں نے ایک شخص اور اس کی فیملی کو مبینہ طور داعش میں شمولیت کے لیے شام بھیجا تھا۔

جرمن انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے مئی میں جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق جرمنی سے 820 جنگجو شام اور عراق میں لڑائی کے لیے گئے تھے۔ان میں ایک تہائی وہاں سے لوٹ چکے ہیں۔140 ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 420 ابھی تک عراق یا شام میں موجود ہیں۔