.

پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں میں یکسانیت ہے:ماسکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکومت نے کہا ہے کہ صدر ولادی میر پوتن اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ایک ہی خطوط پر استوار ہے۔

روسی حکومت کے ترجمان دیمتری بیسکوف نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر ولادی میر پوتن کی پالیسیوں میں حیرت انگیز مماثلت ہے۔ دونوں رہ نماؤں کی خارجہ پالیسیاں کافی حد تک یکساں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن امریکا کے نئے صدر کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بتدریج بہتری کی طرف لانے کے اقدامات کریں گے۔

مسٹر بیسکوف کا کہنا تھا کہ یہ بات ہم سب کے لیے باعث حیرت ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن اور امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں حیرت انگیز یکسانیت موجود ہے۔ پالیسیوں اور خیالات میں قربت ہی ماسکو اور واشگنٹن کے درمیان مضبوط مذاکرات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

روسی حکومت کے ترجمان دیمتری بیسکوف جو ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ کامیابی کے بعد امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ خطاب اور گذشتہ ماہ جنوبی روس میں صدر پوتن کی ایک عوامی جلسے سے کی گئی تقریر میں غیرمعمولی یکسانیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں رہ نماؤں نے اپنے اپنے ملکوں کے مفادات کی بات کی مگر دونوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کریں گے۔

قبل ازیں جمعرات کی شام ایک دوسرے بیان میں بھی بیسکوف نے کہا تھا کہ پوتن اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی حیران کن حد تک آپس میں مشابہت رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران روس اور امریکا کے درمیان شام اور یوکرائن کی وجہ سے کافی دوریاں پیدا ہوئی ہیں۔ شام کے بحران اور یوکرائن کے معاملے پر دونوں ملکوں کی پالیسیوں میں واضح تضاد موجود ہے۔ امریکا شمالی اوقیا نوس کے عسکری اتحاد نیٹو کے قریب ہے جب کہ روس اور نیٹو کےدرمیان کئی بار محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ روسی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا اور روس کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کافی وقت لگ سکتا ہے۔