جیت کے بعد ٹرمپ کا سرخ لباس والی خاتون سے معانقہ؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے اعلان کے بعد سب سے پہلے سرخ لباس میں ملبوس سنہرے بالوں والی ایک خاتون کے ساتھ انتہائی گرم جوشی سے معانقہ کیا۔ انتخابی مہم کے دوران تقریبا 12 مختلف خواتین کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف ہراسیت کے الزامات سامنے آئے تاہم یہ دلیر خاتون گزشتہ پورے دو ماہ سے ریپبلکن امیدوار کے سنگ رہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی مینجر کیلان کانوے کو 17 اگست کو مشیر کے عہدے سے ترقی دے کر مینجر بنا دیا گیا۔ اس کے بعد سے انہوں نے ریپبلکن امیدوار کی انتخابی مہم کو جدت سے ہم کنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ سیاسی میدان میں اپنے بھرپور تجربے کے ذریعے 83 دنوں سے بھی کم عرصے میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کی قیادت کرتے ہوئے ریپبلکن امیدوار کو امریکا کا 45 واں صدر منتخب کرانے میں کامیاب ہو گئیں۔
کیلان کانوے پیشے کے لحاظ سے وکیل اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ وہ سیاسی سروے اور مشاورت کے لیے مختص ایک کمپنی کی مالک بھی ہیں۔ ان کے شوہر جارج کانوے بھی ایک وکیل ہیں۔
کانوے کی عمر 49 برس سے زیادہ ہے اور وہ جنوری 1967 میں امریکا کے شہر نیوجرسی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے جارج واشنگٹن یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
کیلان نے طویل عرصے تک متعدد ریپبلکنز کو اپنے سیاسی تجربے سے مستفید ہونے کے لیے خدمات پیش کیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں شمولیت سے قبل وہ ابتدائی مرحلے کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کے ایک حریف ٹیڈ کروز کی صفوں میں شامل تھیں۔
خواتین کے امور کے متعلق گہرا تجربہ رکھنے والی کیلان گزشتہ کئی برسوں سے متعدد ٹی وی چینلوں پر سیاسی تبصرہ نگار کے طور پر نمودار ہوتی رہی ہیں۔
ٹرمپ کی مہم کی مینجر نے اپنی سیاسی خطاب کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی مہاجرین کو بے دخل کیے جانے سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر امریکی رائے عامہ کو ٹھنڈا کیا۔ انہوں نے باور کرایا تھا کہ ٹرمپ اس معاملے کے ساتھ انسانی بنیادوں پر نمٹیں گے۔
جنسی ہراسیت کے الزامات اور صوتی ریکارڈنگ کے شرم ناک اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد کیلان نے خواتین کو ریپبلکن پارٹی کی طرف لانے کی بھرپور کوشش کی۔
سیاسی سرگرمیوں سے ہٹ کر وہ چار بچوں کی ماں اور گھر کو دیکھنے والی بیوی بھی ہیں جو ہفتے کے اختتام پر اہل خانہ کے ساتھ خوشی کے لمحات میں شریک ہوتی ہیں۔ غالب گمان ہے کہ کانوے وہائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم میں شامل ہوں گی۔ یہ ایک انتخابی روایت بھی ہے کہ جیتنے والا امیدوار وہائٹ ہاؤس کے دفتر میں اپنی معاونین کا چناؤ اپنی انتخابی مہم کے نمایاں ترین ارکان میں سے کرتا ہے۔