.

حلب پر فضائی بمباری جاری ،عالمی سطح پرمذاکراتی کوششیں ناکام

عالمی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا شام کی صورت حال پر بات چیت کے لیے نیویارک روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصوں پر تباہ کن فضائی حملے کسی تعطل کے بغیر جاری ہیں جبکہ حلب میں انسانی المیہ رونما ہونے سے بچانے کے لیے عالمی سطح پرمذاکرات کا سلسلہ جاری ہے مگر ان میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شام میں جاری لڑائی بند کرانے کے لیے ایک قرارداد پر غور کیا جارہا ہے۔ جمعے کو قرار داد کا یہ مسودہ کینیڈا نے پیش کیا ہے۔اس کے علاوہ امریکا اور روس بھی بحران کا کوئی حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔

جنرل اسمبلی میں پیش کردہ مجوزہ قرارداد میں شام اور خاص طور پر حلب میں تشدد کے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اس میں مشرقی حلب کا محاصرہ ختم کرنے ،وہاں امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دینے اور بلا امتیاز اور غیر متناسب حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شام کے لیے عالمی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا ہفتے کے روز نیویارک پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کے ساتھ حلب کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ڈی مستورا نے روم میں جمعے کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ سیکریٹری جنرل کے ساتھ شام کی فوجی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ '' ہم ان کے مشورے پر عمل کریں گے۔میں اس وقت شام میں ہونے والی پیش رفت پر نیویارک جانے سے قبل کوئی گفتگو کرنے سے قاصر ہوں لیکن اہم چیز یہ ہے کہ حلب سے متعلق فوری اقدام کیا جائے۔وہاں صورت حال بہت ہی الم ناک ہوچکی ہے کیونکہ وہاں چالیس ہزار سے زیادہ افراد پھںس کررہ گئے ہیں''۔

درایں اثناء ترک دارالحکومت انقرہ میں بھی ترکی کی میزبانی میں حلب میں لڑنے والے شام کے مختلف باغی دھڑوں کے نمائندوں اور روس کے درمیان بات چیت جاری ہے تاکہ حلب میں جاری بحران کا کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔ شامی حزب اختلاف کے وفد کے صدر بریگڈیئر اسعد عواد الزعبی نے ان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی محاذ نے حلب میں شہریوں کے تحفظ اور وہاں سے زخمیوں کو ایک محفوظ راستے کے ذریعے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ روس اور جنگجو دھڑوں کے درمیان کسی سمجھوتے کا امکان نظر نہیں آتا ہے کیونکہ روس ''جفش'' سے تعلق رکھنے والے نو سو جنگجوؤں کے شہر سے انخلاء کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ حلب میں کسی جنگجو یا عام فرد میں کوئی تمیز نہیں کرسکتے ہیں۔