.

شامی بچوں کے آنسو.. تاریخ ہم پر رحم نہیں کھائے گی : ایرانی طالب علم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی رابطے کی فارسی ویب سائٹوں نے ایک ایرانی طالب علم کی وڈیو جاری کی ہے جس میں اس نے بشار الاسد کے لیے تہران کی سپورٹ کی روشنی میں شامی عوام کے انسانی المیے کے حوالے سے اپنے ملک کے موقف پر سخت احتجاج کیا ہے۔ تہران کی "امير كبير" یونی ورسٹی آف ٹکنالوجی میں یوم طلبہ کے موقع پر منگل کے روز خطاب کرتے ہوئے مذکورہ طالب علم نے کہا کہ " اس میں کوئی ادنی سا شک بھی نہیں کہ ہم شامی بچوں کے آنسوؤں کے سامنے مجرم ہیں۔ تاریخ سب سے زیادہ منصفانہ عدالت ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ تاریخ ہمیں مجرم ٹھہرائے گی اس لیے کہ ہم نے شام میں الم ناک اجتماعی نسل کشی کے حوالے سے خاموشی اختیار کی"۔

اس طالب علم نے یونی ورسٹی ہال میں موجود ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی مطہری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "عالی جناب مطہری ، یہ آپ کا فرض ہے۔ ہم اوروں سے زیادہ توقع نہیں رکھتے لیکن آپ تو عوام کی آواز ہیں لہذا ہمیں آپ سے توقع ہے"۔

یاد رہے کہ مطہری وقتا فوقتا ایران کی صورت حال کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں تاہم ایرانی حکام ان کے ساتھ انتہائی احتیاط سے نمٹتے ہیں کیوں کہ وہ ایرانی نظام کی ایک اہم شخصیت آیت اللہ مرتضی مطہری کے بیٹے ہیں جن کو ایران میں انقلاب کی کامیابی کے آغاز میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد طالب علم نے بقیہ تمام طلبہ کی تالیوں کے بیچ سوال کیا کہ "کیا ہم شام میں حق کے محاذ پر کھڑے ہیں ؟ 5 لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں ، نسلوں کو مٹا دیا گیا اور شام کو تباہ کر دیا گیا ! ہم اس پورے کھیل میں کہاں کھڑے ہیں ؟ اس میں ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ شام کے بچوں کے آنسو ہمیں مجرم قرار دیں گے"۔

طالب علم نے مزید کہا کہ " معذرت کے ساتھ ہم نے کوئی قابل ذکر آواز نہیں سنی اور کوئی بھی اس اجارہ داری کے موقف کی مخالفت نہیں کر رہا (شام کی صورت حال کے حوالے سے ایرانی حکومت کا موقف) یہاں تک کہ ہم نے مطہری صاحب کی بھی قابل ذکر آواز نہیں سنی"۔

خوف کی زنجیر توڑ دینے والے جرات مند طالب نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ " میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ تاریخ کی جانب سے مجرم نہ قرار دیے جائیں تو ہم پر لازم ہے کہ شام کے حوالے سے اپنا موقف متعین کریں"۔