.

ایران کا معاملہ ٹرمپ کے ساتھ زیر بحث لاؤں گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ.. ایران اور اس کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے گفتگو کے خواہش مند ہیں۔

امریکی ٹو وی نیٹ ورک CBS کے پروگرام "60 Minutes" میں انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ٹرمپ اور ان کے مواقف کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اسرائیل کے لیے ٹرمپ کی سپورٹ واضح ہے۔

نیتن یاہو کے مطابق تہران کے ساتھ معاہدے سے پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں " ہمارے سامنے موجود آپشن اس سے کہیں زیادہ ہوں گے جتنا ہم سمجھتے ہیں ، میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کو زیر بحث لاؤں گا"۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق اس حوالے سے پانچ آپشن ہیں تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی آئندہ انتظامیہ کے اندر متعدد ایران مخاصم شخصیات کو منتخب کیا ہے۔ ان میں آئندہ وزیر دفاع جیمس ماٹیس اور سی آئی اے کی آئندہ سربراہ مائیک بومبیو شامل ہیں۔

بنیامین نیتن یاہو جولائی 2015 میں ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان دستخط کیے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے مذکورہ معاہدے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کو ہمیشہ "بدترین" قرار دیا گیا ہے۔