.

استنبول حملہ آور کی 'ٹھنڈی مسکراہٹ' والی سیلفی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئے سال کی آمد کے موقع ترکی کے شہر استنبول کے ایک نائٹ کلب میں فائرنگ کر کے 39 افراد کو ہلاک اور 65 کو زخمی کرنے والے مشتبہ حملہ آور کی تصویر ترکی پولیس نے جاری کی ہے۔

دوسری جانب بعض ترک ذرائع ابلاغ نے مشتبہ حملہ آور کی ایک لیک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں وہ 'سیلفی' لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو کے بارے میں اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ حملے سے پہلے یا بعد میں بنائی گئی، تاہم اتنی بات تیقن سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ ویڈیو مشہور بزنس ایریا 'تقسیم' میں بنائی گئی۔

ویڈیو میں مشتبہ حملہ آور کے چہرے کے خدوخال نمایاں ہیں۔ وہ زیر لب مسکرا رہا ہے، اس کی آنکھوں کے بارے میں کم سے کم یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سختی جھلک رہی ہے۔

ترک سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ استنبول نائٹ کلب حملہ ملک میں ہونے والے ملتے جلتے حملوں سے مختلف ہے۔ اس کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی۔ ترک نائب وزیر اعظم نعمان کورتول مش نے بتایا کہ حملہ آور پیشہ ور لگتا تھا جس نے اسلحہ استعمال کی کافی مشق کر رکھی تھی۔

ترک روزنامہ 'حریت' کو ایک بیان میں سینئر سیکیورٹی آفیسر عبداللہ آغار نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے، بالخصوص وہ دو درجن سے زائد افراد کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ استنبول حملے کی ذمہ داری اگرچہ داعش نے قبول کی ہے تاہم حملہ آور ازبک، قرغیز یا مشرقی چین کا شہری ہو سکتا ہے اور اس کی عمر 25 برس تھی۔

ابتدائی پولیس اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ 'قاتل' نے استنبول کے علاقے زیتی برنو سے 'اورطہ کوی' آنے کے لئے ٹیکسی کرائے پر لی، تاہم نئے سال کی آمد کی وجہ سے علاقے میں رش کی وجہ سے وہ گاڑی سے اتر کر چار پانچ منٹ پیدل چل کر رینا نائٹ کلب آیا۔ پولیس نے قاتل کو جائے حادثہ تک لانے والے ٹیکسی ڈرائیور کو گرفتار کر لیا تھا، تاہم تفتیش کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا کیونکہ اس نے قاتل کے حلیئے سے پولیس کو آگاہ کر دیا تھا۔

جائے حادثہ اور گرد ونواح لگے خفیہ کیمروں کی ویڈیو سکین کرنے والے سیکیورٹی ماہرین نے بتایا کہ ویڈیو میں سیاہ پتلون اور جیکٹ اور سر پر ٹوپی پہنے شخص پیشہ ور لگتا ہے۔ 'حریت' کے مطابق وہ اپنی اندھی گولیوں کا شکار بننے والے افراد کے جسم کے اوپر والے حصوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اس المناک تجربے سے زندہ بچنے والے بعض لبنانیوں نے بتایا کہ وہ زمین پر لیٹے افراد کو بھی گولیاں مار رہا تھا۔ تحقیقات کے مطابق قاتل نے 180 گولیاں چلائیں اور چھ بار میگزین بدلی۔