.

امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے لیے بات چیت ابتدائی مراحل میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو دارالحکومت تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کردیا گیا ہے اور یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔

امریکا کے سبکدوش ہونے والے وزیر خارجہ جان کیری نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی دھماکا خیز ثابت ہوگی کیونکہ فلسطینی اور اسرائیل دونوں ہی بیت المقدس کو اپنا اپنا دارالحکومت بنانے کے دعوے دار ہیں۔

سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے گریز کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اگر اب اپنے انتخابی وعدے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے امریکا کی عشروں پرانی پالیسی کا خاتمہ ہوجائے گا۔مسلم دنیا میں اس کے خلاف غم وغصے کی لہر دوڑ جائے گی اور عالمی برادری بھی اس اقدام کی مذمت کرے گی۔