لیبیا: محرم کے بغیر خواتین کے بیرون ملک سفر پر پابندی

نئے سفری ضابطہ اخلاق پر حکومت کو تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی حکومت نے خواتین کے بیرون ملک سفر کے لیے محرم کی موجودگی کی شرط لازمی قرار دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبی پارلیمنٹ کے ماتحت مشرقی علاقے کے فوجی گورنر جنرل عبدالرزاق الناظوری نے اپنے ایک تازہ حکم نامے میں تاکید کی ہے کہ خواتین بیرون ملک سفر کے دوران محرم کو ساتھ رکھیں۔

دوسری جانب لیبیا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور سماجی تنظیموں نے محرم کی شرط کی مذمت کرتے ہوئے اسے حقوق نسواں اور خواتین کے سفر پر پابندی کےمترادف قرار دیا ہے۔

خواتین کے لیے بیرون ملک سفر میں محرم کو ساتھ رکھنے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد مشرقی لیبیا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں طبرق اور الابرق میں بھی ماحول کافی کشیدہ ہے۔ لیبی خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ’ویمن ٹرائبیون فاؤنڈیشن‘ کی چیئرپرسن نے خواتین کے سفر میں محرم کی شرط کو لازمی قرار دینے کی مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ البیضاء شہر میں حکومتی ہیڈ کواٹر کے قریب واقع الابرق ہوائی اڈے پر محرم سے متعلق فیصلے کا اطلاق کل اتوار سے کیا گیا جس کےنتیجے میں خواتین کو بیرون ملک سفر میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی لیبی حکومت کے نئے سفری ضابطہ اخلاق کی ایک نقل ملی ہےجس میں کہا گیا ہے کہ مفاد عامہ کے تحت 60 سال سے کم عمر کی تمام خواتین کے لیے بیرون ملک سفر کے دوران اپنے کسی محرم کو ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سماجی کارکنوں نے استفسار کیا کہ آیا کہ اس فیصلے کا پس منظر مذہبی تعلیمات پر عمل درآمد کرانا ہے یا سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے ایسا کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی لیبی حکومت کے اس فیصلے پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

لیبی اپوزیشن رہ نماؤں اور خواتین کے حقوق کی انجمنوں کا کہنا ہے کہ محرم کی شرط لازمی قرار دینے سے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والی لیبی طالبات اور ان کے خاندان متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لیبیا کے بہت سے خاندان سیاسی یا سیکیورٹی وجوہات کی بناء پرمنقسم ہیں۔ اس نئے ضابطہ اخلاق سے بیرون ملک مقیم خاندان بھی اپنے پیاروں سے ملاقات سے محروم ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں