بھنگ سے نمٹنے کے لیے اسرائیل چلا امریکا کی چال
امریکی حکومت نے کل اتوار کو ایک نئے مسودہ قانون پر رائے شماری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ذہنی سکون اور نفسیاتی دباؤ کم کرنے کے لیے بھنگ کے استعمال کو جرم قرار نہیں دیا جائے گا۔ یوں اسرائیل بھی بھنگ کے حوالے سے امریکا اور یورپی ممالک کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگیا ہے۔ ان ملکوں میں بھی بھنگ کے استعمال کو خطرناک نشہ آور اشیاء کی فہرست سے نکال کر اس کے استعمال کرنےوالوں کو سہولت فراہم کی گئی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ایک سے دوسرے قدم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں بھنگ کے خطرات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کے حوالے سے توازن قائم رکھنا ہے۔
اسرائیلی حکومت کی طرف بھنگ کے استعمال کے بارے میں حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کو کرنا ہے۔ اگر یہ قانون پارلیمنٹ سے بھی منظور ہوجاتا ہے تو اس کے بعد بھنگ کا دھندہ کرنے والوں کو گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔ البتہ انہیں اس کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ بار بار اس دھندے میں ملوث افراد کے خلاف جرائم کی عدالتوں میں مقدمات قائم نہیں کیے جائیں گے تاہم بھنگ کی کاشت، اس کی خریدو فروخت ایک جرم ہی رہے گا۔
اسرائیلی خاتون وزیر انصاف ایلیٹ چاکید کا کہنا ہے کہ ایران دنیا بھر میں ہونے والی تبدیلیوں سے پہلو تہی اختیار نہیں کرسکتا۔ بھنگ کے استعمال اور اس کے تاثیر کے حوالے سے بھی اسرائیل کو وہی پالیسی اپنانا ہوگی جو عالمی سطح پر مروج ہے۔
خیال رہے کہ امریکا کی 28 ریاستوں میں بھنگ کو طبی مقاصد کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی اجازت ہے جب کہ سنہ 2012ء میں امریکی ریاستوں نے بھنگ کے استعمال کو تفریح کے لیے استعمال کرنے بھی اجازت دے دی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیر انصاف کا کہنا تھا کہ وہ بھنگ [چرس] کے استعمال اور اس کے مضر اثرات سے آگاہی کے لیے ایک رضاکارانہ مہم شروع کریں گے۔
اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم سے متعلق دفتر کے مطابق اسرائیل میں 9 فی صد لوگ بھنک کی بوٹی کا استعمال کرتے ہیں۔ مگر اسرائیلی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
سنہ 2015ء میں اسرائیلی پولیس نے بھنگ کی ترویج میں ملوث 188 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ یہ تعداد سنہ 2010ء میں گرفتار ہونے والوں کی نسبت 56 فی صد کم ہے۔