سویڈن کے لڑاکا طیاروں نے بحیرہ بالٹک کے اوپر دو روسی طیاروں کو روک لیا
نیٹو کے لڑاکا طیاروں نے مشترکہ فضائی حدود میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پرواز کی
سویڈن نے بتایا ہے کہ اس نے جمعہ کے روز چار "جاس 39 گریپن" لڑاکا طیارے دو روسی جنگی طیاروں کو روکنے کے لیے بھیجے جو بحیرہ بالٹک کے اوپر اس کی فضائی حدود کے قریب پرواز کر رہے تھے۔
یہ دونوں واقعات جمعہ کے روز بحیرہ بالٹک کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں پیش آئے۔
آج ہفتے کے روز سویڈش فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیٹو کے لڑاکا طیاروں نے بھی مشترکہ فضائی حدود میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پرواز کی۔
بیان میں نشان دہی کی گئی ہے کہ ان دونوں واقعات کے دوران سویڈن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
سویڈش مسلح افواج میں جوائنٹ آپریشنز کی سربراہ ایوا اسکوگ ہاسلوم نے بیان میں کہا کہ روسی اقدامات خطرناک ہیں اور یہ رویے کا ایک ایسا تکراری نمونہ ہے جو ہماری علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔
سویڈن مارچ 2024 میں نیٹو میں شامل ہوا تھا۔
سن 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کے بعد سے بحیرہ بالٹک کے علاقے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
-
روس کی امریکہ اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل
پیسکوف کے مطابق کشیدگی کا نیا دور پوری عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا پیش خیمہ ...
بين الاقوامى -
امریکہ میں بڑی ڈکیتی: انگلینڈ کے فٹبال اسٹارز کے جوتے اور ساز و سامان لوٹ لیا گیا
انگلینڈ کی فٹ بال ٹیم کے اسٹارز کے جوتے اور ساز و سامان حیران کن طور پر اس ٹرک سے ...
بين الاقوامى -
ہرمز کے قریب عسکری کشیدگی میں اضافے کے جلو میں امریکہ ۔ ایران معاہدہ ممکن؟
تصفیے کے مجوزہ متن کے خدوخال پر اختلاف برقرار ہے
مشرق وسطی