برطانیہ : وزیر بن گیا اخبار کا چیف ایڈیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ جارج اوزبورن نے صحافی کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے جو برطانیہ اور شاید دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے اور سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مستعفی ہوجانے کے بعد اوزبورن کو وزیر کے منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اوزبورن اب بھی حکم راں جماعت کے رکن پارلیمنٹ ہیں تاہم وہ حکومت کا حصہ نہیں رہے۔

اوزبورن کو لندن سے شام کے وقت جاری ہونے والے ایک مقامی روزنامے "ایوننگ اسٹینڈرڈ" کا چیف ایڈیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اُن مقبول اخبارات میں سے ایک ہے ٹرین کے اسٹیشنوں ، بس کے اڈوں اور عوامی مقامات پر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کا شمار لندن میں کثیر الاشاعت اخبارات میں ہوتا ہے۔

برطانیہ کے مقامی ذرائع ابلاغ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق 45 سالہ اوزبورن کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ صحافت کے میدان میں کُل وقتی طور پر کام کریں گے۔ اخبار کے چیف ایڈیٹر کے طور پر وہ اپنی ذمے داری یکم مئی سے سنبھالیں گے۔

برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اوزبورن گزشتہ برس اپنے حکومتی منصب سے سبک دوش ہونے کے بعد اب تین ملازمتیں کر چکے ہیں۔ ان ملازمتوں میں سالانہ 6500 برطانوی پاؤنڈ کے عوض "بلیک روک" نامی کمپنی میں اثاثوں کو انتظامی طور پر سنبھالنے کی ذمے داری بھی شامل ہے۔

"ایوننگ اسٹینڈرڈ" کے مطابق اوزبورن ہفتے میں صرف چار روز اخبار کے لیے کام کریں گے۔ اخبار نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ اب یہ روزنامہ برطانوی دارالحکومت میں روزانہ 9 لاکھ سے زیادہ افراد کے پاس پہنچا کرے گا۔ واضح رہے کہ "ایوننگ اسٹینڈرڈ" لندن کے سوا برطانیہ کے کسی بھی اور شہر میں شائع نہیں ہوتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں