.

’شمالی کوریا ایرانی میزائل پروگرام میں تہران کا معاون‘

تیس شخصیات اور اداروں پر امریکی پابندیاں خوش آئند ہیں:اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کی مخالفت میں پیش پیش قومی مزاحمتی کونسل نے امریکا کی طرف سے ایرانی میزائل پروگرام میں معاونت کرنے والے 30 اداروں اور شخصیات پر اقتصادی پابندیوں کے اعلام کا خیر مقدم کیا ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے العرب میزائل پروگرام کو اپ گریڈ کرنے میں شمالی کوریا تہران کی مدد کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپوزیشن جماعت’مجاھدین خلق‘ کی قائم کردہ قومی مزاحمتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پیشتر شمالی کوریا نے اپنی سائنسدان ایرانی میزائل پروگرام کی تجدید کے لیے تہران بھیجے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی میزائل پروگرام میں معاونت کی پاداش میں 30 شخصیات اور اداروں پر پابندیوں کا امریکی فیصلہ قابل تحسین ہے۔ ایرانی حکومت کے ہاں اسلحہ کی تیاری، جدید ترین میزائل اور دیگر ہتھیار بنانے کا مقصد خطے میں بدامنی کو ہوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایرانی حکومت کے تمام نمائندہ اداروں اور پاسداران انقلاب کو بھی دہشت گرد اداروں میں شامل کرتے ہوئے ان پر اقتصادی پابندیاں عاید کی جائیں۔

اپوزیشن کی طرف سے پیرس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام اس کے متنازع جوہری پروگرام ہی کا حصہ ہے جسے براہ راست ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے جدید ترین جنگی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے حصول کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔

اپوزیشن نے خامنہ ای کے 21 مارچ 2017ء کے اس خطاب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

گذشتہ برس نومبر میں ایرانی آرمڈ فورسز کے سربراہ جنرل حسن فیروز آبادی کے اعتراف کیا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام براہ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیرنگرانی ہے۔ کوئی میزائل ان کی مرضی سے لانچ نہیں کیا جاتا۔