ایران کی امریکی فوج پر میزائل حملوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے ایک سرکردہ فوج کے کمانڈر نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملکی سلامتی کو خطرہ ہوا تو تہران اپنے "دشمنوں کے خلاف میزائلز استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔"

خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس یونٹ کے بریگیڈیئر جنرل عامر علی حاجی زادہ نے کہا کہ ’ہم ایران کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے دیکھا کہ ہمارے دشمن کوئی چھوٹا سا بھی غلط قدم اٹھا رہے ہیں تو ہمارے ہنگامہ خیز میزائلز ان کی سرزمین پر گریں گے‘۔

سپاہ نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے باوجود ایران نے ہفتے کو فوجی مشقوں کا آغاز کیا جن میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے میزائلز اور جدید ریڈار سسٹم کی آزمائش کی گئی۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ہفتے کو شمال مشرقی سمنان میں ہونے والی فوجی مشقوں میں جن میزائلز کو استعمال کیا گی ا ان کی رینج صرف 75 کلو میٹر تک تھی۔

پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق ’فوجی مشقوں میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے ریڈار اور میزائل سسٹم، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور سائبر وارفیئر سسٹمز کو استعمال کیا گیا‘۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے اور یمنی باغیوں کی حمایت کی پاداش میں ایران پر پابندی عائد کی تھی۔ ایران کا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل 2 ہزار کلومیٹر تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ میزائل اسرائیل اور خلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ان امریکی شہریوں اور کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کرے گا جو دہشت گرد تنظیمیوں کو بنانے اور ان کی معاونت میں ملوث ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’امریکا کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدام کے جواب میں ایران بھی بعض امریکی شہریوں اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے گا جو خطے میں دہشت گرد تنظیمیوں کو بنانے اور ان کی حمایت میں ملوث ہیں‘۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پابندی کی زد میں آنے والے شہریوں اور کمپنیوں کی فہرست بعد میں جاری کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ایران کی 13 شخصیات اور 12 کمپنیوں پر پابندی لگائی گئیں۔ محکمہ خزانہ کا کہنا تھا کہ ایران اور چین میں مقیم یہ شخصیات اور کمپنیاں تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پاسداران انقلاب کے حامی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں