پاکستان میں ’العربیہ‘ کے بیوروچیف کا اغواء کار فلپائن میں ہلاک
ابو سیاف گروپ کے کمانڈر ابو رامی کے پانچ ساتھی بھی مقابلے میں مارے گئے
فلپائنی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم ’ابو سیاف‘ کے ایک سینیر کمانڈر اور دھماکہ خیز مواد کے انجینیر کو منگل کے روز سیاحتی جزیرے بوھول میں فائرنگ کے تبادلے میں پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا گیا ہے۔ مقتول کمانڈر پاکستان میں ’العربیہ‘ چینل کے بیورو چیف بکرعطیانی کے اغواء اور ان کے خاندان کو بلیک میل کرنے میں بھی ملوث رہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلپائنی مسلح افواج کے سربراہ نے ایک بیان میں بتایا کہ’ابو سیاف‘ گروپ سے وابستہ عسکریت پسند کمانڈر معمر العسکری المعروف ابو رامی کو گذشتہ منگل کو بوھول جزیرے میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کیا گیا۔ مقتول کمانڈر ابو رامی ’ابو سیاف‘ میں دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ’العربیہ‘ نیوز چینل کے پاکستان میں بیورچیف بکر عطیانی کے اغواء میں بھی ملوث رہا ہے۔ فلپائنی پولیس کے مطابق ابو سیاف گروپ کے اغواء کار اور اس کے پانچ ساتھی بھی آپریشن میں ہلاک ہوئے۔
خیال رہے کہ ابو رامی شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ تھا۔ بیس اور تیس سال کی درمیانی عمر والے اس جنگجو کا آبائی تعلق فلپائن کے جنوبی جزیرہ ’سولو‘ کے اندنن‘ علاقے سے تھا۔ ابو سیاف گروپ میں یہ واحد کمانڈر تھا جو انگریزی زبان میں روانی کے ساتھ بول لیتا تھا۔ بکرعطیانی کو ابو سیاف کے جس جنگجو گروپ نے یرغمال بنایا ان میں ابو رامی بھی شامل تھا۔
ابو رامی یونیورسٹی کی تعلیم چھوڑ کر ’مورو نیشنل لبریشن فرنٹ‘ میں شامل ہو گیا، کچھ عرصہ بعد اس نے ابو سیاف گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ اسی عرصے میں اس نے تنظیم کے ایک کمانڈر کی بیٹی سے شادی کی۔
ابو رامی کو تنظیم میں ترجمان کی حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے ایک ماہر کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ اس پر جزیرہ سولو کے ھولو شہر میں مقامی گورنر پر قاتلانہ حملے کے لیے بم دھماکہ کرنے اور ایک امریکی فوجی پارٹی کو حملے کا نشانہ بنانے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے۔
ابو رامی پر اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام رہا۔ 18 ماہ تک ابو سیاف گروپ کے ہاں یرغمال رہنے والے ’العربیہ‘ کے پاکستان میں بیرو چیف بکرعطیانی کی مانیٹرنگ میں دیگر جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ ابو رامی بھی رہا۔ وہ کبھی ’العربیہ‘ چینل کو بلیک میل کرتا اور کبھی عطیانی کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالتا۔
خیال رہے کہ جنوبی فلپائن میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات پر دو دستاویزی فلموں کی تیاری کے لیے بکرعطیانی نے کچھ عرصہ قبل فلپائن کا سفر کیا جہاں ابو سیاف گروپ نے انہیں یرغمال بنالیا تھا۔ بکرعطیانی اس وقت پاکستان میں العربیہ چینل کے بیورو چیف تھے۔
ابو سیاف نامی دہشت گرد تنظیم سنپ 1990ء میں اوائل میں قائم کی گئی۔ کچھ عرصہ تک لیبیا کی طرف سے مدد بھی ملتی رہی ہے۔
-
الشیخ عائض القرنی فلپائن میں فائرنگ سے زخمی
سعودی سکالر کے متعدد مصاحبین کے ہلاک ہونے کی اطلاعات
بين الاقوامى -
فلپائن: اسلامی عسکریت پسندوں کی مانیٹرنگ سخت کر دی گئی
عالمی برادری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا، انٹیلی جنس حکام
بين الاقوامى -
''ابوسیاف گروپ کا دین اسلام اور اس کی اقدار سے کوئی تعلق نہیں''
العربیہ کے نمائندے بکرعطیانی فلپائن میں اپنے اغوا کی کہانی بیان کرتے ہیں
ایڈیٹر کی پسند