.

افغانستان: ’’بموں کی ماں‘‘ کے حملے میں داعش کی 90 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فوج کے ’’ تمام بموں کی ماں‘‘ کے حملے میں مرنے والے جنگجوؤں کی تعداد نوّے ہوگئی ہے۔امریکی فوج کے لڑاکا طیارے نے جمعرات کو افغان صوبے ننگر ہار کے ضلع اچین کے پہاڑی علاقے ایک بہت بڑا (قریباً 245 من وزنی) غیر جوہری بم جی بی یو-43 گرایا تھا۔

ضلع اچین کے گورنر اسماعیل شنواری نے ہفتے کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ بم حملے میں داعش کے 92 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔صوبہ ننگرہار کی حکومت کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے 90 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جبکہ قبل ازیں افغان حکام نے کہا تھا کہ بمباری میں 36 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے مطابق ایم سی-130 طیارے کے ذریعے جی بی یو- 43 بم پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ضلع اچین میں داعش کے زیر استعمال غاروں ،سرنگوں اور بنکروں پر مشتمل کمپلیکس پر گرایا گیا تھا۔اس بم کا وزن 21600 پاؤنڈ (9797 کلوگرام ،245 من) ہے۔یہ جی پی ایس گائیڈڈ ہتھیار ہے اور اس کا پہلی مرتبہ تجربہ مارچ 2003ء میں عراق جنگ کے آغاز سے صرف چند روز قبل کیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے کسی جنگ میں اس طرح کا اتنا بڑا بم گرایا ہے۔ اس کے حملے میں غاریں ،سرنگیں اور بنکر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں اور دھماکے کے بعد دھویں کے بادل اور آگ کے شعلے آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھے گئے تھے۔امریکی فوجی ہفتے کے روز بھی اس جگہ سے ملبہ ہٹانے اور داعش کے جانی نقصان کا اندازہ لگانے میں لگے ہوئے تھے۔

ایک اطلاع کے مطابق داعش نے ان غاروں اور سرنگوں کے ارد گرد روایتی زمینی حملے سے بچاؤ کے لیے بارودی سرنگیں بچھا رکھی تھیں۔گذشتہ ہفتے امریکا کے خصوصی دستوں اور افغان فورسز نے اس علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی شروع کی تھی مگر انھیں داعش کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور لڑائی میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

افغانستان میں اس تباہ کن بم حملے کے حوالے سے اب تک ملا جلا ردعمل آیا ہے۔ بعض افغانوں نے اس کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا نے ان کے ملک کو ہرقسم کے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کے جائزے کے لیے ایک تجربہ گاہ بنا رکھا ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ داعش طالبان کے مقابلے میں کم خطرہ ہیں امریکا طالبان سے نمٹنے کے بجائے داعش کے خلاف اس طرح کے تباہ کن ہتھیار استعمال کررہا ہے۔

تاہم افغان صدر اشرف غنی نے اس بمباری کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز اور امریکی فورسز کی علاقے کو داعش کے جنگجوؤں سے پاک کرنے کے لیے کارروائی کا حصہ ہے۔

بعض تجزیہ کاروں نے اس فضائی بمباری کو غیر متناسب قرار دیا ہے۔واشنگٹن میں ووڈ رو ولسن سنٹر سے وابستہ تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ داعش طالبان کے مقابلے میں ایک سائیڈ شو ہیں۔تزویراتی نقطہ نظر سے بھی امریکا نے ایک ایسے دشمن کے خلاف اتنا بڑا بم برسایا ہے جو افغانستان میں بھی اس کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے جبکہ طالبان نے ٹرمپ انتظامیہ کے شوروغوغا کے باوجود اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں‘‘۔