طالبان حملے کے بعد افغان فوج کا سربراہ اور وزیر دفاع مستعفی!
افغان آرمی چیف اور وزیر دفاع نے مزار شریف واقعہ پر استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چند 4 روز قبل افغانستان کے شہر مزار شریف پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں آرمی چیف جنرل شیر محمد کریمی اور وزیر دفاع عبداللہ حبیبی نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیدیا ہے۔
ترجمان افغان صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف میں فوجی تربیتی مرکز پر حملہ تاریخ کا بدترین حملہ تھا جب کہ افغان حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان آرمی چیف اور وزیر دفاع نے مزار شریف حملے پر استعفیٰ دیا ہے۔
واضح رہے کہ 4 روز قبل مزار شریف میں فوجی تربیتی مرکز پر ہونے والے حملے میں 170 فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔
-
افغانستان: ’’بموں کی ماں‘‘ کے حملے میں داعش کی 90 ہلاکتیں
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فوج کے ’&rsquo ...
بين الاقوامى -
امریکا نے افغانستان میں داعش پر245 من وزنی’’ بموں کی ماں‘‘ گرادی
امریکا نے پہلی مرتبہ افغانستان کے مشرقی علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر ایک بہت بڑا ...
بين الاقوامى -
افغانستان سے جنگجوؤں کے حملے میں پانچ پاکستانی فوجی شہید
پاک فوج کی جوابی فائرنگ سے 10 سے زیادہ مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے
پاكستان