کیا جواد ظریف کا جنرل سلیمانی کے بدلے میں امریکا سے معاہدہ طے پا گیا ؟
ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سابق رکن پارلیمان اور ایک سخت گیر بنیاد پرست تحریک کے رہ نما محمود نبویان کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جواد ظریف نے امریکا کے ساتھ تمام پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو حوالے کرنے کی پیش کش کی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے وزیر خارجہ کا بدھ کے روز ایک بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے اس طرح کے بیانات کو مسترد کردیا ہے اور ان دعووں کو جعلی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے جنرل سلیمانی کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار ہیں۔ انھوں نے نبویان سے اس بیان پر معافی مانگنے اور ندامت کا اظہار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بہ صورت دیگر انھیں قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔
نبویان نے سوموار کے روز دارالحکومت تہران میں اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جواد ظریف کا امریکا کے ساتھ 2015ء میں جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دورا ن ایک سمجھوتا طے پا گیا تھا اور انھوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو امریکا کے حوالے کرنے کی ہامی بھری تھی۔ان کا یہ بیان بعض ایرانی ٹیلی ویژن چینلز سے بھی نشر کیا گیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ اسکینڈل جواد ظریف کا تادم مرگ پیچھا کرتا رہے گا۔ ان کے بہ قول اس جوہری سمجھوتے پر دست خطوں کے ڈیڑھ ایک سال کے بعد امریکا کی قیادت میں مغرب نے ایک نئی شرط عاید کردی تھی کہ جنرل قاسم سلیمانی کو حوالے کرنے کی صورت ہی میں ایران پر عاید پابندیاں ختم کی جائیں گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے بھی اپنی ہفتہ وار نیوز کانفرنس کے دوران اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کا ملک پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں جنرل قاسم سلیمانی کو کسی اور ملک کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ترجمان نے کہا:’’ یہ ایک ناخوشگوار اور اوچھا بیان ہے۔یہ بات بالکل ناقابل یقین ہے کہ ایران میں کوئی اس طرح کے گمراہ کن اور غلط دعوے بھی کرسکتا ہے’’۔انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کی پالیسی ضبط وتحمل اور اعتدال پسندی پر مبنی ہے۔
بہرام قاسمی کا کہنا تھا کہ’’ عدالت میں ابھی اس معاملے میں درخواست تو دائر نہیں کی گئی ہے لیکن اگر یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا ہے تو ہم ایسا کریں گے کیونکہ یہ حکومتی عہدہ داروں کے خلاف بہت بڑا الزام ہے‘‘۔