کُرد جنگجوؤں کو مسلح کرنے کے بعد واشنگٹن کی انقرہ کو یقین دہانیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی فوج نے داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں کُرد جنگجوؤں کی امریکی اسلحے سے امداد کے حوالے سے ترکی کو مطمئن کرنے کے واسطے یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ اس سے قبل انقرہ نے اس اقدام کو "انتہائی خطرناک" قرار دیا تھا۔

بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل "ریان ڈیلن" نے باور کرایا ہے کہ اُن کا ملک سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کو دیے جانے والے ہتھیاروں کے حوالے سے پوری ذمے داری کا حامل ہے اور پیش کیے جانے والے ہر ہتھیار کے سیریل نمبر کا اندارج ہو گا۔ اُن کا اشارہ کرد اور عرب جنگجوؤں کی طرف تھا جو الرقہ شہر میں شدت پسندوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الرقہ شہر کو داعش تنظیم سے واپس لینے کے لیے مقررہ حملے میں شام میں موجود کُرد جنگجوؤں کو مسلح کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

دوسری جانب انقرہ کُرد یونٹوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے حوالے سے کئی مرتبہ اپنی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے۔ وہ امریکا کی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز میں کرد عناصر کو مسلح کرنے کے اقدام کو شدت سے تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی ُکرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو شام میں کردستان لیبر پارٹی کا دھڑا شمار کرتا ہے جو 1984 سے ترکی کے جنوب مشرق میں بغاوت میں مصروف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں