.

لندن : بارودی بیلٹ اور بموں میں لِپٹے ایک حملہ آور کی لاش کی تصویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں مقامی ذرائع ابلاغ میں اور سوشل میڈیا پر اتوار کی صبح سے ایک دہشت ناک تصویر گردش میں ہے۔ اس تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر برطانوی پولیس ہفتے کی شام لندن میں ہونے والے دہشت گرد حملے سے فوری طور پر چوکنا ہو کر نہیں نمٹتی تو دارالحکومت میں کتنی بڑی تباہی پھیل سکتی تھی۔

مذکورہ تصویر میں جس کی ایک کاپی "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بھی حاصل ہو گئی.. ایک مقتول شخص زمین پر پڑا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کے پورے جسم پر بارودی بیلٹ اور بم بندھے ہوئے ہیں۔ تصویر سے واظح طور پر لگتا ہے کہ برطانوی پولیس نے اس شخص کو خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل ہی ہلاک کر ڈالا۔

ایسا نظر آتا ہے کہ یہ تصویر اُن ماہرین کے اس لاش کے پاس پہنچنے سے قبل لی گئی ہے جن کو یہ بارودی بیلٹ اور تمام دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانا تھا۔

سوشل میڈیا پر اس تصویر کو گردش میں لانے والوں کا کہنا ہے کہ اس خودکش حملہ آور کو "بورو مارکیٹ" میں ہلاک کیا گیا۔ یہ وہ ہی علاقہ ہے جہاں چاقو کے ذریعے اندھادھند واروں سے کئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس بات کا امکان ہے کہ مذکورہ حملہ آور نے پہلے چاقو سے وار کیے ہوں اور پھر اپنی گرفتاری کا منتظر ہو تا کہ پولیس اہل کاروں کے بیچ خود کو دھماکے سے اڑا دے۔ تاہم برطانوی پولیس نے خودکش کارروائی سے پہلے ہی اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

برطانوی دارالحکومت لندن میں "بورو مارکیٹ" اور "بورو ہائی اسٹریٹ" شہر کے وسط میں واقع ہیں۔ عام طور پر یہاں پیدل چلنے والوں اور ہفتے کی رات تفریح میں وقت گزاری کے لیے جگہاؤں کو تلاش کرنے والوں کا رش ہوتا ہے۔ لہذا اگر یہ مقتول خودکش حملہ آور خود کو اڑا دینے میں کامیاب ہو جاتا تو یقینا ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ہفتے کی شام تاخیر سے پانچ مختلف مقامات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 6 افراد اور 2 حملہ آور مارے گئے۔ مرکزی حملہ لندن کے وسط میں مشہور پُل پر ہوا جہاں ایک سفید رنگ کی ویگن نے لوگوں کو کچل ڈالا اور اس کے بعد ویگن سے تین افراد نے اتر کر پیدل چلنے والوں پر چاقوؤں سے اندھادھند وار کرنے شروع کر دیے۔