لندن دہشت گردوں کے نشانے پر، 7 ہلاک متعدد افراد زخمی
برطانیہ کی پولیس کے مطابق لندن بریج کے علاقے میں رات گئے دہشت گردی کے دو مختلف واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں اب تک سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دو حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔
العربیہ نیوز چینل کے مطابق دہشت گردی کے ان واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان واقعات میں ممکنہ طور ایک وین نے راہگیروں کو کچل دیا جبکہ لوگوں پر چاقو کے وار کیے جانے کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔
پولیس کی جانب سے دو واقعات کو دہشت گردی قرار دیے جانے سے کچھ ہی دیر قبل وزیر اعظم تھریسا مے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ لندن میں پیش آنے والے واقعات کو ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پولیس کاکہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک سے زاید اہداف پرحملے کرنے کی کوشش کی۔ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے ایک سفید وین نے راہ گیروں کو کچل ڈالا۔ دوسرا واقعہ مصروف فوڈ مارکیٹ ’برومارکیٹ‘ میں پیش آیا۔ پولیس نے ایک مشتبہ چاقو بردار پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا، جو بعد ازاں ہلاک ہو گیا۔
اسکارٹ لینڈ یارڈ کے مطابق ایک اور واقعہ واکس ہال میں پیش آیا، تاہم پولیس اس واقعے کو دہشت گردی سے جوڑنے سے گریز کر رہی ہے۔ البتہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
دہشت گردی کے واقعات کے بعد لندن ریل سروس اور بریج کو ہرطرح کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پولیس اور سکیورٹی حکام کی جانب سے ملنے والی معلومات کی بنا پر میں یہ تصدیق کر سکتی ہوں کہ لندن میں پیش آنے والے اندھوناک واقعات کو ممکنہ طور پر دہشت گردی کے اقدامات کے طور پر لیا جا رہا ہے۔‘
ابتدائی واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک سفید وین کے راہ گیروں کو کچلنے کے بعد وہاں مسلح پولیس افسران کو دیکھا گیا ہے۔ میٹرو پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وین نے راہگیروں کو ٹکر ماری اور اس کے بعد زخمی ہونے والے پانچ افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
بعد ازاں نامہ نگار نے یہ بھی اطلاع دی کہ انھوں نے دیکھا کہ جائے وقوعہ پر پولیس ایک شخص کو گرفتار کر رہی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ایک فرانسیسی خاتون بھی زخمیوں میں شامل ہیں جن کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ موجود دو اور لوگ کہاں گئے۔
مارکیٹ پورٹر پپ میں موجود ایک سکیورٹی گارڈ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انھوں نے بارا مارکیٹ میں تین افراد کو دیکھا جن میں سے ایک کے ہاتھ میں بڑا سا چاقو تھا اور وہ لوگوں کو مار رہے تھے۔ انھوں نے بتایا حملے کا نشانہ بننے والوں میں ایک نوجوان لڑکی بھی تھی۔
امریکا نے بھی لندن میں دہشت گردی کے تازہ واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ وہائٹ ہائوس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ لندن واقعے کے بارے میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کو ساری صورت حال سے با خبر رکھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ دو ہفتے قبل برطانوی شہر مانچسٹر میں ایک میوزک کنسرٹ میں ہونے والے خود کش حملے میں کم سے کم 22 افراد ہلاک اور 60 سے زاید زخمی ہو گئے تھے۔ برطانیہ میں یہ دو ہفتوں میں دہشت گردی کا دوسرا خونی واقعہ ہے۔
-
لندن میں تین مشتبہ عورتیں انسداد ِدہشت گردی قانون کے تحت گرفتار
برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے مشرقی علاقے میں پولیس نے تین عورتوں کو انسداد دہشت ...
بين الاقوامى -
لندن: پارلیمنٹ کے قریب سے چاقو سے لیس مشتبہ شخص گرفتار
برطانوی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے دارالحکومت لندن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ...
بين الاقوامى -
دہشت گردی کی مذمت، محجب خواتین کی لندن میں ہاتھوں کی زنجیر
دہشت گردی کے خلاف مسلمان خواتین کا منفرد رد عمل
بين الاقوامى -
لندن : جائے حادثہ سے گزرتی باحجاب خاتون پر سخت تنقید کیوں ؟
سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک باحجاب خاتون کو جو کہ غالبا عرب ہے بڑی سرگرمی سے موضوع ...
مشرق وسطی -
برطانیہ کی لندن میں جنرل احمدالعسیری سے ناخوش گوار واقعے پر سعودی عرب سے معذرت
برطانیہ نے لندن میں سعودی وزیر دفاع کے مشیر اور فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد ...
بين الاقوامى -
لندن دہشت گردی سے خوف زدہ خاتون دریا میں کود پڑی
بدھ کے روز برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں دہشت گردی کے واقعے کے دوران ایک خاتون نے ...
بين الاقوامى