قطر کے اقدامات پڑوسیوں اور امریکا دونوں کے لیے باعث تشویش
خلیجی ریاست قطر اور دوسرے ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی تنازع کے تناظر میں امریکا نے قطر کی پالیسیوں سے اختلاف کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطر کے اقدامات سے امریکا اور دوحہ کے پڑوسی ملکوں دونوں کو تشویش ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ملکوں کے درمیان مستقل کشیدگی امریکا کے مفاد میں نہیں۔ اسلام پسندوں اور ایران کی حمایت کے الزامات کے بعد خلیجی اور عرب ملکوں کا قطر کا بائیکاٹ دوحہ حکومت کے تصرفات کا رد عمل ہے۔ قطر کے اقدامات سے نہ صرف خلیجی ملکوں کو تشویش ہے بلکہ امریکا کو بھی تشویش لاحق ہے۔ ہم تمام ممالک پر درست سمت میں اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے بعد خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کے پابند ہیں۔
ادھر امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے سڈنی میں صحافیوں سےبات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ملکوں کی طرف سے قطر کے بائیکاٹ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر نہیں ہوگی۔ واشنگٹن تمام خلیجی حلیفوں سے اختلافات کو جلد دور کرنے پر زور دیا ہے۔
-
پاکستان علماء کونسل کا قطر کی ایران نوازی پر شدید احتجاج
پاکستان علماء کونسل نے قطر کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کی حمایت اور ایران سے ...
پاكستان -
اماراتی فضائی کمپنیوں کا قطر کے لیے آپریشن معطل
متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل چھ جون کی ...
مشرق وسطی -
قطر سے عرب ممالک کے سفارتی تعلقات کے انقطاع پر بین الاقوامی ردعمل
عالمی برادری نے مختلف عرب اورا سلامی ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ...
بين الاقوامى