لیبیا کی فوج نے قطر کے خلاف عالمی عدالت جانے کی دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا میں قطری مداخلت کے ثبوت سامنے آنے پر اب شمالی افریقا کے اس اہم ملک کی فوج نے ملک نے قتل عام کے ضمن میں قطری کردار کے حوالے سے بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان بریگیڈئر احمد المسماری نے بنغازی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قطر نے عرب خطے میں تباہی پھیلائی۔ انہوں نے بتایا کہ 2012ء سے ہم نے قطر سے قطع تعلق کر رکھا ہے کیونکہ دوحہ مسلسل دہشت گردی تنظیموں کی حمایت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں قطر کا تخریبی کردار جلد اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔

بریگیڈئر المسماری نے مزید دعوی کیا کہ حماس بھی لیبیا کے تنازعات میں ملوث رہی ہے۔

ادھر لیبیا میں توانائی کے شعبے کی نگرانی کرنے والی پارلیمنٹ کی توانائی کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ قطر کی حکومت یا قطر سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں سے تیل سے متعلق تمام معاہدے منسوخ کر دیے جائیں۔

ریاض میں متعین لیبیائی سفیر نے پیر کے روز بتایا تھا کہ لیبی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے قطر سے اپنا سفیر واپس بلوانے کے بعد قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیبیا کے اس فیصلے سے قبل، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور یمن نے قطر سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کی وجہ دوحہ کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت بتائی گئی تھی۔

بعد ازاں لیبیا کے مشرقی علاقے میں قائم حکومت نے معمر القذافی اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ملک میں قطر کی جانب سے رقم کی جانے والی ’سیاہ تاریخ‘ کے سبب دوحہ سے اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں