.

یوسف القرضاوی قطر کی مجبوری کیوں؟ تفصیلی احوال!

القرضاوی نے قطری پالیسیوں کی ترویج کے لیے مذہب کواستعمال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری نژاد یوسف عبداللہ القرضاوی قطر کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ ان کا شمار قطر کی انتہائی طاقت ور شخصیات میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ قطری عمال حکومت علامہ القرضاوی کی بات کو حرف آخر قرار دیتے ہیں اور کسی کو ان کے حکم سےسرتابی کی اجازت نہیں ہوتی۔

علامہ یوسف القرضاوی کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے ماضی میں بھی کوششیں کی جاتی رہی ہیں مگر قطر نے ہرگام ہر علامہ القرضاوی کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ ان کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے۔

حال ہی میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے ایک مشترکہ بیان میں یوسف القرضاوی کو دہشت گرد عناصر کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے علامہ یوسف القرضاوی کی زندگی اور ان کی قدم قدم پر نظریات میں ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوسف القرضاوی قطر کی مجبوری کیوں ہیں؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوسف القرضاوی ایک مجموعہ اضداد شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی کے تمام مراحل فکری تغیرات پرمبنی ہیں۔ چونکہ ان کے پاس قطر کی شہریت ہے۔ اس لیے ان کی رائے سے اختلاف کو سرکار کی رائے سے انحراف سمجھا جاتا ہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یوسف القرضاوی مصر کے سابق مرد آہن جمال عبدالناصر کے دور میں مصرکی ایک جیل میں بھی قید رہے جہاں پر ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ ان پر اخوان المسلمون سے تعلق اور صدرعبدالناصر کے قتل کے لیے ہونے والے مختلف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا۔

علامہ القرضاوی مصرمیں اپنے آبائی علاقے صفط میں مذہبی مبلغ اور نکاح خوان بھی رہے مگر انہوں نے افکار تبدیل کرتے ہوئے اخوان المسلمون کی نظریات اختیارکیے۔ اپنے علمی اثرو رسوخ کی بناء پر انہوں نے جامعہ الازھر میں اصول دین کے شعبے سے بھی وابستگی اختیار کی اور اس خفیہ گروپ کا حصہ بھی بنے جو مصر میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا۔

مصر کے ایک سابق سیکیورٹی افسر نے علامہ یوسف القرضاوی کے بارے میں ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ سابق صدر جمال عبدالناصر اور ان کے انٹیلی جنس ادارے اخوان المسلمون کو توڑنے کے لیے خلاف توقع اقدامات کیے۔ اس وقت اخوان المسلمون کے اکابرین انتہا پسندانہ نظریات کو تیزی کے ساتھ ریاست کے خلاف استعمال کررہے تھے۔ اخوان نے اہم شخصیات پرقاتلانہ حملوں کے لیے عبدالرحمان السندی نامی شخص کی قیادت میں ایک خفیہ سیل تشکیل دے رکھا تھا۔ ملک بھرمیں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کارروائیوں میں اس گروپ کا گہرا ہاتھ تھا۔

عبدالرحمان السندی کو مختلف طریقوں سے جمال عبدالناصر نے قابو کرنے کی کوشش کی۔ بالآخر وہ اسے اپنی گرفت میں لانے میں کامیاب رہے۔ اس وقت اخون المسلمون کی قیادت جماعت کے بانی حسن البنا کے پاس تھی۔ جمال عبدالناصر نے السندی کونرہ سویز میں شل کمپنی میں تعینات کیا اور اسے ایک گھر اور گاڑی بھی دی۔ اس کے بدلے میں السندی نے اخوان قیادت کے بارے میں تمام راز اگل دیے۔

علامہ یوسف القرضاوی کو مصر میں اپنے افکار کے فروغ میں مشکلات پیش آئیں تو انہوں نے قطر کو اپنے لیے ایک بہترین فورم سمجھا۔ انہوں نے قطر ہی میں اقامات اختیار کی اور وہاں پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اپنے مصری پاسپورٹ کی تجدید کے لیے وطن واپس آنا بھی گوارا نہ کیا۔ القرضاوی نے یہ بہانہ بنایا کہ چونکہ وہ جمال عبدالناصر کے مخالفین میں شامل ہیں۔ اس لیے اگر وہ واپس جاتے ہیں توانہیں حراست میں لیا جائے گا اور انہیں دوبارہ جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔

سنہ 1995ء میں علامہ القرضاوی قطر کے حکمراں خاندان کی ہردلعزیز شخصیت بن گئے۔ انہوں نے قطری حکومت کے دفاع میں فتاویٰ دینا شروع کیے اور ہر اس تنظیم کا دفاع شروع کیا جس کا کسی نا کسی شکل میں تعلق اخوان المسلمون کے ساتھ تھا۔

جون 1995ء کو قطری ولی عہد الشیخ حمد بن خلیفہ نے اپنے والد کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اقتدار کی اس غیر قانونی تبدیلی میں بھی علامہ القرضاوی کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے فتویٰ صادر کیا کہ اپنے والد کا تختہ الٹنے کی اسلام میں اجازت ہے۔ شہزادہ حمد نے اپنے والد کا تختہ الٹ اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ملک و قوم کے مفاد میں کیا ہے۔ ان کا اقدام قطری عوام اور مسلم امہ کی امنگوں کےعین مطابق ہے اور وہ ایک عرصے سے اس انقلاب کا مطالبہ کررہے تھے۔

یہ فتویٰ انہوں نے سابق امیر کے خلاف انتقام کے طور پرجاری کیا کیونکہ وہ القرضاوی کو ملک سے نکال باہر کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

الشیخ خلیفہ بن حمد کے دور میں مصری دانشور اور صحافی رجاء النقاش کو اس وقت کے قطرکے سب سے بڑے اخبار ’الدوحہُ کا چیف ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ علامہ القرضاوی النقاش کے افکار ونظریات کے خلاف تھے اور اندر ہی اندر ان کے بارے میں بغض بھی رکھتے تھے۔ انہوں نے فکری اختلاف کی بناء پر رجاء النقاش کی تکفیر کا فتویٰ صادر کیا۔ ان کے اس فتوے سے ملک میں ایک نئی مذہبی کشمکش کا خدشہ پیدا ہوگیا اور امیر مملکت کو بھی القرضاوی کی سرگرمیوں سے خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں ملک سےنکالنے پر غور کررہے تھے۔ قریب تھا کہ ان کی قطری شہریت منسوخ کردی جاتی مگر القرضاوی کے مقربین نے بیچ بچاؤ کرکے انہیں بچالیا۔

القرضاوی کو امیر قطر کے اقدامات پرغصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب امیر قطر کے بیٹے نے باپ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو انہوں نے آئینی امیر قطر کے بجائے اس کے بیٹے کے انقلاب کی حمایت کی۔

’الجزیرہ‘ ٹی وی کے قیام کے بعد ٹی وی چینل نے امیر قطر کی ہدایت پر القرضاوی کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیا۔ ٹی وی شو نے القرضاوی کی قطر میں مزید مذہبی دھاک بٹھا دی۔ وہ اپنی مادر جماعت اخوان المسلمون کے لیے اپنے قطری حامیوں کی مدد سے فنڈز اکٹھا کرتے اور اخوان المسلمون کو فراہم کرتے رہے۔

القرضاوی نے قطر میں اپنے علمی مقام و مرتبے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فکری افکار کو مختلف دیگر چینل سے وسعت دینے کی کوششیں کی۔ سوشل میڈیا اور ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ یوٹیوب کی مدد سے اپنے پرتشدد نظریات پھیلائے۔ ان تمام مقاصد کے لیے انہیں قطری حکومت کی طرف سے فری ہینڈ دیا گیا۔

امیر قطر کے شامی رجیم اور لبنانی حزب اللہ کے ساتھ گہرے مراسم قائم ہوئے توان کے پیچھے بھی علامہ القرضاوی کے فتاویٰ کے اثرات تھے۔ علامہ القرضاوی بشارالاسد اور حزب اللہ کو عرب دنیا کے خلاف مغربی سازشوں کے سامنے مزاحمت کی علامت قرار دیتے۔

علامہ یوسف القرضاوی نے عراق پر یلغار کرنے والی امریکی فوج اور افغانستان میں غیرملکی افواج کے خلاف لڑنے کے جواز پر مبنی فتوے جاری کیے۔ انہوں نے سوڈان کی تقسیم روکنے کے لیے بھی فتویٰ دیا کیونکہ قطر شمالی اور جنوبی سوڈان میں علاحدگی کےریفرنڈم کا حامی نہیں تھا۔

تیونس میں جب تک زین العابدین بن علی اقتدارپر فائز رہے تو وہ القرضاوی کے لیے قابل احترام تھے۔جب ان کا تختہ الٹ دیا گیا تو القرضاوی نے انہیں غبی قرار دیا۔

چونکہ قطر مصرمیں حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف خروج[بغاوت] کا حامی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ القرضاوی نے مصرمیں حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے مذہبی جواز پر مبنی فتویٰ صادر کیا۔

مصرمیں جب حسنی مبارک کا تختہ الٹ کر اخوان المسلمون کی حکومت قائم ہوئی تو اس کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیا کیونکہ اخوان المسلمون کی حکومت کو قطری حکومت کی حمایت حاصل تھی۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں یوسف القرضاوی نے بتایا کہ جب مصر میں محمد مرسی ملک کے صدر بنے تو ایک موقع پر مرسی تقریر کررہے تھے اور اخوان کے ارکان ان کی تقریر پر کافی پرجوش تھے جب کہ ان کے وزیر دفاع [موجودہ صدر] عبدالفتاح السیسی اور وزیر داخلہ صدر مرسی کی تقریر پر قدرے خاموش تھے۔ مجھے اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ وزیر دفاع اور وزیر داخلہ مرسی کے ساتھ نہیں۔

لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے خلاف علم بغاوت بلند ہوا تو یوسف القرضاوی نے القذافی کے قتل کے حق میں فتویٰ دیا۔ بنغازی کی نیشنل انقلابی کونسل کے شعبہ اطلاعات کے انچارج مصطفیٰ غریانی نے اعتراف کیا ہے کہ قطر قذافی سے لڑنے کے لیے انہیں اسلحہ دینے کے لیے تیار تھا۔

سنہ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے جب قطر کا اعلان کیا گیا تو اس پر بعض ممالک کی طرف سے اعتراض کیا گیا۔ القرضاوی نے اس اعتراض کو بھی مسترد کردیا اور قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ کی حمایت میں فتویٰ جاری کرکے ریاستی موقف کو مضبوط کیا۔

الغرض، علامہ یوسف القرضاوی نے قدم قدم پر قطر اپنے مذہبی افکار کو قطر کی ریاستی پالیسی کے دفاع کے لیے استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قطر نے انہیں آج تک دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اپنی ویب سائیٹ پر القرضاوی نے اعتراف کیا ہے کہ اگر امیر قطر الشیخ حمد بن خلیفہ نہ ہوتے تو امریکی ان کا نام بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیتے۔