’’برطانیہ میں انتہا پسندی سے سعودی عرب کا کوئی تعلق نہیں‘‘

گم راہ افراد اور تنظیموں کے استیصال تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: سعودی سفارت خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

لندن میں سعودی سفارت خانے نے اس رپورٹ کو بالکل غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں برطانیہ میں انتہا پسندی کا ناتا سعودی مملکت سے جوڑنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سعودی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’سعودی عرب میں بعض افراد کے سخت گیر بننے سے متعلق حالیہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں اور ان کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘‘۔بی بی سی سے نشر ہونے والے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب تو خود ماضی قریب میں داعش اور القاعدہ کے متعدد حملوں کا ہدف رہا ہے۔

بیان کے مطابق :’’ ہم متشدد انتہاپسندی کے نظریے اور کارروائیوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور نہ کریں گے اور جب تک ہم ان گم راہ افراد اور تنظیموں کا استیصال نہیں کردیتے،اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘۔

واضح رہے کہ ہینری جیکسن سوسائٹی نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسلامی تنظیموں ،منافرت پھیلانے والے مبلغین اورتشدد کی کارروائیوں میں ملوث جہادی گروپوں کے بیرون ملک سے رقوم وصول کرنے کے واضح ثبوت ہیں۔اس نے اس ضمن میں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے کردار سے متعلق سرکاری تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں