.

’ایران کی سرحدیں شام، عراق اور بحر روم کے ساحل تک ہیں‘

ایرانی سپریم لیڈر کے مندوب نے ایک اور شوشہ چھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب خاص اور خبرگان کونسل کے رکن آیت اللہ احمد علم الھدیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی سرحدیں ایک طرف بلاد شام اور دوسری طرف عراق اور بحر روم کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ علم الھدیٰ نے ایرانی فوج کو ’حرم اہل بیت‘ کی محافظ فورس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج اپنی حدود سے باہر نہیں لڑتی۔ عراق اور شام ایران کا حصہ ہیں۔ اس لیے اگر وہاں پر ایرانی فوج موجود ہے تو اس میں کسی کو حیران ہونے کی اس لیے ضرورت نہیں کیونکہ یہ اہل تشیع کے آٹھویں امام ’امام الرضا‘ کی سر زمین ہے۔ انہوں نے ایران سے شام اور عراق کی طرف ھجرت دین کی اشاعت اور تبلیغ کے لیے کی تھی۔ آخر کار وہ وہیں دفن ہوئے۔

خبر رساں ایجنسی "ایسنا" کے مطابق آیت اللہ علی علم الھدیٰ نے کہا کہ بحیرہ روم، عراق اور شام، ایران سے باہر کے علاقے نہیں۔ ان ملکوں میں ایران کی حمایت سے لڑنے والے گروپ تہران کی نمائندگی کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی مذہبی رہ نما کی جانب سے شام اور عراق کو ایران کا حصہ قرار دینے کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان دونوں ملکوں میں بڑی تعداد میں ایران کی تشکیل کردہ عسکری تنظیموں کے عناصر سرگرم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد افغان جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔ ایران، عراق اور اردن کے سرحدی علاقے التنف پر قبضہ کرنے کے بعد تہران، بغداد، دمشق اور بیروت کو ایک تزویراتی زمینی راستہ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔