خشک میوہ جات کے فوائد بڑھانے کے صحت مند طریقے، جانیے کیسے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

خشک میوہ جات صحت مند غذائی نظام میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، کیونکہ یہ فائبر، غیر سیر شدہ چکنائیوں، وٹامنز اور معدنیات کے ساتھ ساتھ ایسے فعال نباتاتی مرکبات پر مشتمل ہوتے ہیں ،جو دل کی صحت اور جسم کے میٹابولزم کو سہارا دیتے ہیں۔

وسیع سائنسی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خشک میوہ جات کا باقاعدہ استعمال دل کے امراض اور مجموعی طور پر اموات کے خطرے میں کمی سے منسلک ہے۔تاہم ان فوائد سے بھرپور استفادہ بڑی حد تک مقدار، درست انتخاب اور استعمال کے طریقے پر منحصر ہے، جیسا کہ صحت سے متعلق ویب سائٹ "ویری ویل ہیلتھ" کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔

غذائی مطالعات روزانہ تقریباً 28 گرام (ایک مُٹھی) خشک میوہ جات کے استعمال کی سفارش کرتے ہیں۔ ایک سائنسی جائزے کے مطابق اس مقدار کا استعمال دل کے امراض اور مجموعی اموات کے خطرے میں 20 فیصد تک کمی سے جڑا ہے، جبکہ خشک میوہ جات استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں کینسر سے ہونے والی اموات میں بھی تقریباً 10 فیصد کمی دیکھی گئی۔

اس کے باوجود چونکہ خشک میوہ جات کیلوریز سے بھرپور ہوتے ہیں، اس لیے غیر ارادی وزن بڑھنے سے بچنے کے لیے اعتدال برتنا ضروری ہے۔آلو کے چپس اور مٹھائیوں کے بجائے خشک میوہ جات کا انتخاب ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تبدیلی سے فائبر اور صحت مند چکنائیوں کا استعمال بڑھتا ہے، زیادہ شکر والی غذاؤں اور فاسٹ فوڈ کی خواہش میں کمی آتی ہے اور مجموعی طور پر غذا کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

تقابلی مطالعے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کچے یا بغیر تیل کے خشک بھنے ہوئے خشک میوہ جات اپنی قلبی صحت بخش خصوصیات برقرار رکھتے ہیں، جن میں اچھے کولیسٹرول کی سطح میں بہتری اور خون میں چکنائی (ٹرائی گلیسرائیڈز) میں کمی شامل ہے۔

اس کے برعکس ذائقہ دار، شکر میں لپٹے یا زیادہ نمک والے خشک میوہ جات میں سوڈیم، شکر اور غیر صحت مند چکنائیاں زیادہ ہوتی ہیں، جو ان کے فوائد کو کمزور کر سکتی ہیں۔خشک میوہ جات کو روزمرہ کھانوں میں شامل کرنا،مثلاً دلیہ، سلاد یا دہی میں،غذائی قدر میں اضافہ کرتا ہے، وہ بھی اضافی کھانے کی ضرورت کے بغیر۔

تحقیقات خشک میوہ جات کو بحیرۂ روم (میڈیٹیرینین) طرزِ خوراک کا حصہ بنانے کی حمایت کرتی ہیں، جو طویل عمر، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کے امراض کے کم خطرے سے منسلک ہے۔ہر قسم کے خشک میوے کی اپنی غذائی پہچان ہوتی ہے۔ اخروٹ اومیگا-3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں، بادام وٹامن E کا اہم ذریعہ ہیں، جبکہ پستہ فائبر اور پروٹین سے مالا مال ہوتا ہے۔

ایک طبی تجربے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مختلف اقسام کے خشک میوہ جات کا امتزاج استعمال کرنے سے پراسیس شدہ اسنیکس کے مقابلے میں جسمانی چکنائی اور بلڈ پریشر میں کمی واقع ہوئی۔

الرجی سے خبردار

اگرچہ خشک میوہ جات کے فوائد بہت زیادہ ہیں، تاہم تقریباً ایک فیصد افراد ان سے الرجی کا شکار ہوتے ہیں، اور بعض صورتوں میں یہ ردِعمل شدید بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے چیا کے بیج، السی یا سورج مکھی کے بیج نسبتاً محفوظ متبادل ہو سکتے ہیں، تاہم استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

خلاصہ یہ کہ خشک میوہ جات حجم میں چھوٹے مگر فوائد میں بڑے ہیں، لیکن ان سے محفوظ اور مؤثر فائدہ اٹھانے کے لیے اعتدال، تنوع اور کم سے کم پراسیس شدہ اقسام کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ متوازن غذائی نظام میں دانشمندی سے شامل کیے جائیں تو یہ دل کی صحت اور طویل عمر کے لیے ایک مضبوط معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں