.

لندن کانفرنس :شرکاء کا قطر کی دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں قطری حزب اختلاف کے زیر اہتمام ملک کے مستقبل کے حوالے سے کانفرنس جاری ہے اور اس میں مشرقِ وسطیٰ ، امریکا اور برطانیہ میں مقیم قطری حزب اختلاف کی شخصیات شریک ہیں۔ان کے درمیان بحث کے موضوعات میں قطر کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی امداد ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اس خلیجی ریاست کا مستقبل نمایاں ہے۔

کانفرنس کے شرکاء میں لارڈ پیڈی ایش ڈاؤن ، سفیر بل رچرڈسن ، آئین ڈنکن سمتھ ، جان سمپسن ، جیمی روبن ، جنرل چک والڈ ، بریگیڈئیر شلومو بروم ، ڈوف زخیم اور رکن پارلیمان ڈینیل کازینسکی نمایاں ہیں۔وہ قطر کے ماضی ، حال اور مستقبل کے امکانات سے متعلق اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔

قطر ، عالمی سلامتی اور استحکام کے نام سے ہونے والی اس کانفرنس کا اہتمام جلاوطن قطریوں نے کہا ہے ۔وہ اپنے ملک میں اصلاحات پر زوردیتے چلے آرہے ہیں۔یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہورہی ہے جب قطر کا چارعرب ممالک کے ساتھ تنازع جاری ہے اور یہ اب چوتھے مہینے میں داخل ہوچکا ہے۔

اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل پانچ دیگر نمایاں موضوعات درج ذیل ہیں:
سیاسی اسلام اور دہشت گرد گروپ ۔
قطر اور ایران کی خارجہ پالیسی : خطے میں استحکام کا اہم ذریعہ ۔
جمہوریت ، انسانی حقوق اور عالمی وقار کے لیے تگ ودو۔
الجزیرہ : آزاد پریس یا دہشت گردی کی آواز ۔
قطر کے اقتصادی اور جیو سیاسی اثرات ۔

اس کانفرنس کے منتظم قطرکی کاروباری شخصیت اور اصلاح پسند خالد الہیل ہیں۔انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امور کے جن معزز اور نمایاں تبصرہ نگاروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے،اس سے قطر کی موجودہ قیادت کی سمت کے بارے میں اندرون اور ملک پائی جانے والی تشویش کی بھی عکاسی ہوتی ہے‘‘۔

دوحہ حکومت نے مغرب کی سیاسی شخصیات پر اس کانفرنس کے بائیکاٹ کے لیے بہت دباؤ ڈالا تھا لیکن یہ اس کے باوجود ہورہی ہے۔ خالد الہیل کا کہنا ہے کہ ’’اس کانفرنس کا مقصد قطر کے بارے میں درست حقائق کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ موجودہ قطری رجیم کے دباؤ کی وجہ سے ان کے بارے میں کوئی آواز نہیں اٹھائی جارہی ہے‘‘۔