امریکا ،مسلم بین المذاہب مکالمہ،450 دانشوروں کی شرکت، ثقافتی ابلاغ پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

نیویارک میں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان ثقافتی ابلاغ کے موضوع پر کانفرنس اتوار کو دوسرے روز بھی جاری ہے۔اس کا اہتمام رابطہ عالم اسلامی نے کیا ہے اور اس میں دنیا کے 56 ممالک سے تعلق رکھنے والے 450 سے زیادہ دانشور ،سائنسدان اور ماہرین تعلیم شریک ہیں۔

رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کانفرنس کے دوسرے روز اپنی تقریر میں کہا کہ ’’امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان برسوں سے جاری امتیازی مہذب تعلقات نے ’’ تہذیبوں کے درمیان کشمکش‘‘ کی سنگین غلطی اجاگر کی تھی۔یہ نفرت اور نسل پرستی پر مبنی تھی اور اس سے خیالی رکاوٹیں کھڑی ہوگئی تھیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہمارے نزدیک اہم بات پر امن بقائے باہمی کی ضرورت کو سمجھنا ہے اور اس تفہیم کی روشنی میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے جس سے نہ صرف ہمارے باہمی مفادات کا تحفظ ہو بلکہ اس سے تمام انسانیت کو فائدہ پہنچے۔سماجی امن اور دانشورانہ سلامتی کو تحفظ ملے اور برائی کو شکست سے دوچار کیا جائے‘‘۔

ڈاکٹر العیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’’ضمیر اور سوچ میں عدم توازن کی وجہ سے بڑے انسانی المیوں نے جنم لیا ہے ۔رابطہ عالم اسلامی عالمی انسانی مشن پر عمل پیرا ہے اور وہ پوری انسانیت کی خدمت اور باہمی مفاد کے لیے ابلاغ ، مفاہمت اور باہمی ربط وتعاون پر زور دیتی ہے‘‘۔

عالمی کونسل برائے مذہبی قائدین کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر باوا جین نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اب دوسروں کو قبول کرنے اور ان کے احترام کے مرحلے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے‘‘۔

جامعہ شاہ عبدالعزیز جدہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی تعلیمات کے پروفیسر عبداللہ بن بیاح نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اسلام کی اقدار امریکی آئین کے مطابق ہیں اور سعودی عرب اسلامی دنیا کی قیادت کے لیے درکارتمام انسانی اور مذہبی اقدار کا حامل ہے ‘‘۔

کانفرنس میں امام کعبہ اور الحرمین الشریفین کی جنرل پریذیڈینسی کے صدر شیخ عبدالرحمان السدیس بھی شریک تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بنی نوع انسان کے درمیان انصاف اور مساوات کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ابلاغ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زوردیا ۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’ ہمیں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان مکالمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے مشترکہ عوامی مقاصد پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے‘‘۔

کانفرنس میں شریک نمایاں مندوبین کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

ڈاکٹر باوا جین ، سیکریٹری جنرل عالمی کونسل برائے مذہبی قائدین ۔
ڈاکٹر ڈیوڈ نصر : سینیر نائب صدر برائے روحانی نشو ونما لبرٹی یونیورسٹی ۔
ڈاکٹر محمد بن مطر الکعبی : مسلم معاشرت میں فروغ امن کے لیے فورم کے سیکریٹری جنرل ۔
ڈاکٹر عباس شومان : نائب شیخ الجامعہ الازہر قاہرہ۔
ڈاکٹر یوسف بن احمد العمینجن : سیکریٹری جنرل اسلامی تعاون تنظیم ( اوآئی سی)۔
سوسان کک : سابق امریکی سفیر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی۔
اور اقوام متحدہ کے مذہبی رہ نماؤں کی عالمی کونسل کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ولیم ایف وینڈلے ۔

اس دوروزہ کانفرنس میں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور ابلاغ کے حوالے سے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ان موضوعات میں امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان ثقافتی شراکت داری : حقیقت اور خواہشات ۔عالمی امن کے فروغ میں اسلام کا کردار ۔ امریکا میں مسلمان : مطابقت اور شہریت ۔مذہبی آزادیوں کے اطلاق میں دانشورانہ رجحانات۔امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان ابلاغ ، اجتماعی تہذیبی اور انسانی اقدار۔امریکا اور اسلامی دنیا کے درمیان باہمی مکالمہ نمایاں ہیں۔

کانفرنس میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کےموضوع پر سب سے زیادہ اظہار خیال کیا گیا ہے اور اس میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ انتہا پسندی کی شرح اسلامی دنیا میں بہت تھوڑی ہے۔ تازہ تخمینے کے مطابق ہر دو لاکھ میں سے ایک شخص کی انتہا پسند کے طور پر شناخت کی گئی ہے اور یہ کم ترین شرح دانشورانہ اور عسکری سطح پر مہموں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں