.

عراقی کردستان میں ریفرینڈم سے امن یا استحکام نہیں آئے گا: ترک وزیر خارجہ

عراق کی علاقائی سالمیت ،خود مختاری اور آزادی ریفرینڈم سے متعلق ترکی کا موقف بڑا واضح ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے کہا ہے کہ عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں ریفرینڈم سے خطے میں امن اور استحکام نہیں آئے گا۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز چینل کے اقوام متحدہ میں بیورو چیف طلال الحاج کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ عراق کی علاقائی سالمیت ،خود مختاری اور اس آزادی ریفر ینڈم سے متعلق ہمارا موقف بڑ ا واضح ہے۔مجوزہ آزادی ریفرینڈم ایک غلط فیصلہ ہے اور اس حوالے سے ہم نے بغداد اور اربیل کو خصوصی ایلچیوں کے ذریعے واضح طور پر بتا دیا ہے۔

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستا ن کی حکومت نے بغداد سے علاحدگی کے لیے 25 ستمبر کو ریفرینڈم منعقد کرانے کا اعلان کررکھا ہے لیکن عراق کی عدالت ِ عظمیٰ نے سوموار کے روز اس کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس ریفرینڈم کے آئینی ہونے کے بارے میں دائر کردہ درخواستوں کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

عدالت ِعظمیٰ کے ترجمان کے مطابق کردستان میں مجوزہ ریفرینڈم کے غیر آئینی ہونے سے متعلق متعدد درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان کی سماعت تک عدالتِ عظمیٰ نے استصواب رائے کے انعقاد کو روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔عام شہریوں کے علاوہ عراقی پارلیمان کے تین ارکان نے بھی عدالت عظمیٰ میں کردستان میں آزادی ریفرینڈم کے انعقاد کو روکنے کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں اور ان میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ ریفرینڈم غیر آئینی ہے ۔

ترکی کے علاوہ عراق کا ایک اور پڑوسی ملک ایران بھی اس ریفرینڈم کی مخالفت کررہا ہے۔ امریکا سمیت مغربی ممالک اور اقوام متحدہ بھی خود مختار کردستان پر یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ بغداد کے ساتھ اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے طے کرے اور اس سے علاحدگی اختیار نہ کرے ۔خطے میں صرف اسرائیل واحد ملک ہے جو کردستان کی آزادی کے لیے اس ریفرینڈم کی حمایت کررہا ہے۔