سعودی عرب میں خواتین مرکزی کردار ادا کررہی ہیں : سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا میں متعیّن سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی خواتین خود اکیلے کاریں چلا سکیں گی اور انھیں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے اپنے سرپرستوں سے اجازت لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

انھوں نے واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کا فیصلہ ایک بہت بڑا قدم ہے اور سعودی معاشرہ اس کے لیے تیار ہے‘‘۔

شاہ سلمان کے فرزند شہزادہ خالد نے کہا کہ’’ سعودی عرب تبدیل ہورہا ہے۔ہماری ایک متحرک قیادت ہے۔ ہم ویژن 2030ء پر عمل درآمد کررہے ہیں ۔اس کے ذریعے ہم خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنا رہے ہیں تاکہ وہ سعودی معیشت میں زیادہ بڑا کردار ادا کریں اور وہ مملکت کو جدید بنانے اور اقتصادی اصلاحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھائیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ خواتین کی ڈرائیونگ کا معاملہ کوئی مذہبی اور ثقافتی ایشو نہیں تھا۔سعودی عرب کے کبائر علماء کی کونسل کے ارکان کی اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اسلام خواتین کو ڈرائیونگ سے نہیں روکتا ہے۔ یہ ایک معاشرتی ایشو تھا۔ آج ہمارے ہاں نوجوان ، فعا ل اور متحرک معاشرہ ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی ا جازت دی جائے‘‘۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا ’’ گذشتہ ستاسی سالہ تاریخ کے دوران میں ہم نے بطور قوم ایک تسلسل کے ساتھ تبدیلی اور ترقی کا عمل جاری رکھا ہے۔آج ویژن2030ء کی بدولت یہ تبدیلی بڑی تیزی سے رونما ہورہی ہے لیکن یہ سب کچھ ہمارے مذہب اور اقدار کے مطابق ہورہا ہے۔ہم تیل پر کم انحصار والی معیشت کو ترقی دے رہے ہیں اور ایک ذمے دار قوم کی حیثیت سے آگے بڑھ رہے ہیں جو خطے اور دنیا میں امن اور خوش حالی کے لیے ذمے دارانہ انداز میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں