کردستان کے خلاف ترکی، عراق، ایران کی مشترکہ مہم جوئی کا امکان
ترکی عراقی فوج کی معاونت کے لیے 12 ہزار فوجی بھیجے گا
عراق کے صوبہ کردستان کی جانب سے آزادی کے لیے کرائے گئے عوامی ریفرینڈم کے بعد ترکی، ایران اور عراق کی کردستان کے خلاف مشترکہ فوجی مہم جوئی کا امکان ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی میں حکومت کے ایک مقرب اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انقرہ کردستان کے خلاف کارروائی کے لیے شمالی عراق میں اپنے بارہ ہزار فوجی تعینات کرے گا۔
اخبار ’ترکش‘ کی رپورٹ کے مطابق ترک فوج کی روانگی کے ساتھ ہی عراقی فوج بھی شمالی عراق میں کردستان کی طرف پیش قدمی شروع کرے گی۔
ادھر ایرانی فوج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے اپنے ترک ہم منصب جنرل خلوصی آکار کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ترکی اور ایران مشترکہ چیلنجز اور خطرات سے مل کر نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی وحدت کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے’ارنا‘ کے مطابق آرمی چیف محمد باقی نے عراق کے صوبہ کردستان میں آزادی کے لیے کرائے گئے ریفرینڈم کو مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی اور ترک فوج مشترکہ فوجی مشقوں کے ساتھ جنگی مہارتوں کا تبادلہ کریں گے اور عسکری تربیت میں ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی جائے گی۔
-
عراقی کردستان کی سرحد کے نزدیک ایرانی ٹینک اور توپ خانے
ایک کُرد ذمے دار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ ایران نے پیر کے روز ...
مشرق وسطی -
عراق :کردستان میں پھنسے غیرملکیوں کو بغداد کے ذریعے واپس جانے کی اجازت
عراق نے بین الاقوامی پروازوں پر پابندی کے بعد کردستان میں پھنس جانے والے ...
مشرق وسطی -
عراقی شیعہ لیڈر کی کردستان کے صدر کو سنگین نتائج کی دھمکی
بارزانی صرف طاقت کی زبان جانتے ہیں: قیس الخز علی
مشرق وسطی