کھانے کی 5 اشیاء جن کو کبھی دھونا نہیں چاہیے !
بچپن سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ ہر چیز کو کھانے سے پہلے دھو لیا جائے۔ گھریلو امور کی ذمے دار خواتین کی اکثریت بھی پکانے یا کھانے کی میز پر پیش کرنے سے قبل تمام چیزوں کو باقاعدہ طور پر دھوتی ہیں۔ تاہم سائنسی تحقیق کے مطابق بعض چیزوں کو مطلقا دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے بلکہ اگر ان کو پانی سے دھویا جائے تو وہ جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
انگریزی ویب سائٹ "برائٹ سائیڈ" کے مطابق انڈے کو ریفرجریٹر میں رکھنے یا اسے پکانے سے قبل دھونا نہیں چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈے کے اوپر اکثر ایک مواد لگا ہوتا ہے جو جراثیم کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ لہذا اسے دھونے کی صورت میں وہ مواد ختم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں کثرت سے جراثیم پھیل جائیں گے۔
اس سلسلے میں ہم میں سے اکثر لوگ جو سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں وہ مُرغی کو دھونا ہے۔ یہ طبی لحاظ سے سب سے بڑی غلطی کہی جا سکتی ہے۔ مرغی کو دھونے سے اس پر موجود جراثیم پورے باورچی خانے اور برتنوں میں پھیل جاتے ہی۔ لہذا اس کو براہ راست پکانا چاہیے کویں کہ تیز آنچ کسی بھی کھانے کی چیز میں موجود جراثیم کو مار دینے کی ضامن ہوتی ہے۔ بعض غذائی ماہرین کے مطابق مرغی کو دو مرتبہ ابال لینا بہتر عمل ہے۔ پہلی مرتبہ کے پانی کو پھینک دیجیے اور پھر صاف پانی کا اضافہ کریں اور اس کے بعد اسے پکائیں۔
مرغی کی طرح کسی بھی قسم کے گوشت کو ہر گز دھونا نہیں چاہیے۔ اس لیے کہ اسے دھونے کے نتیجے میں باورچی خانے کے حوض اور اس کے اطراف موجود برتنوں میں جراثیم بھر جائیں گے۔
اسی طرح بعض لوگ پاستا یا میکرونی کو بھی دھو لیتے ہیں جو کہ کسی طور قابلِ تعریف امر نہیں ہے۔ اس عمل سے میکرونی سے وہ مواد ہٹ جاتا ہے جو بعد ازاں "شوربے" کو جذب کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ البتہ جو لوگ میکرونی کو سلاد میں استعمال کرنا چاہتے ہوں وہ اس کو ابال کر دھو سکتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ مشروم کو بھی زیادہ دیر تک پانی میں نہیں بھگونا چاہیے۔ اگرچہ اس میں "ریت" کی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے تاہم اس کے باوجود زیادہ دیر تک پانی میں نہیں رہنے دینا چاہیے۔ اس کو جلدی سے پانی میں دھو کر پھر ٹشو پیپر سے خشک کر لینا چاہیے کیوں کہ اس نوعیت کی سبزیاں تیزی سے خراب ہوتی ہیں اور ان کی "لچک" ختم ہو جاتی ہے۔