.

ایران کے جوہری سمجھوتے سے دست بردرای، ٹرمپ کے آپشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیرہ اکتوبر بروز جمعہ کو کانگریس کے سامنے ایران کے جوہری پروگرام پر طے پائے سمجھوتے سے متعلق پانی نئی پالیسی کا اعلان کریں گے۔ وہ سمجھوتے کی منظوری سے دست بردار ہوں گے یا معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کریں گے۔ مگر یہ دونوں الگ الگ آپشنز ہیں اور اس کے ساتھ بہت سے سوالات بھی مربوط ہیں۔

کیا امریکا ایران کےجوہری معاہدے سے باہر نکل جائے گا؟

ڈونلڈ ٹرمپ جوہری سمجھوتے سے انخلاء کے آپشن کو کانگریس پر چھوڑیں گے اور کانگریس کو فیصلے کے لیے 60 دن کا وقت دیا جائے گا مگر اس کا یہ مطلب ہر گز یہ نہیں کہ امریکا اس معاہدے سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہو جائے گا۔ اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ امریکا معاہدے کے بعد معطل کی گئی پابندیوں کو بحال کرے اور سنہ 2005ء والی پوزیشن پر واپس جانا ہے۔ مگر یہ بھی واضح نہیں کہ آیا واشنگٹن ایسا کرے گا یا نہیں۔

ٹرمپ کس بنیاد پر علاحدگی اختیار کریں گے؟

فرض کریں ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کو بتاتے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد نہیں کر رہا ۔ یا یہ کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتا امریکی قومی سلامتی کے مفادات کے خلاف ہے۔ یا دونوں اسباب بیان کیے جائیں۔ مگر ایسا کوئی بھی اقدام آسانی سے نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ وسیع پیمانے پر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے سرگرم تنظیم کی ایک کارکن کلیسی ڈافنپورٹ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کا معاملہ اس وقت سے کانگریس میں ہے جب سے ٹرمپ منصب صدارت پر فائز ہیں۔ ٹرمپ کے پاس اس معاہدے سے علاحدہ ہونے کا کوئی منطقی سبب موجود نہیں۔ نہ صرف عالمی معائنہ کار بلکہ یورپی یونین کے مطابق بھی ایران جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن بھی یہی کہہ چکے ہیں۔

کانگریس کے پاس اختیارات

ایران کے جوہری سمجھوتے کے بارے میں ٹرمپ کی نئی پالیسی کے بعد کانگریس کے سامنے تین آپشن ہوں گے۔ پہلا آپشن جوہری معاہدے کو معلق کرنے کے بعد تہران پرسابقہ پابندیاں بحال کرنا، یا ایران کے جوہری پروگرام پر نئی پابندیاں عاید کرنا اورتیسرا آپشن یہ کہ موجودہ پالیسی کو جوں کا توں برقرار رکھنا۔

ڈانفپورٹ کے مطابق کانگریس پہلا آپشن اختیار نہیں کرے گی کیونکہ کانگریس میں ایران پر معطل کی گئی پابندیوں کی بحالی کے لیے درکار حمایت موجود نہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی اکثریت اور بڑی تعداد میں ڈیموکریٹس کا بھی یہ خیال ہے کہ سابقہ پابندیوں کی بحالی معاہدہ توڑنے کے مترادف ہوگی۔

نئی پابندیاں مگر کیسے؟

امریکی تجزیہ نگار جوناتھن شانزر کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر نئی پابندیاں اس غیر متعلقہ ہیں، تاہم یورپی یونین امریکی خدشات کو دور کرنے کے لیے دوبارہ مذاکرات پر مجبو ہو سکتا ہے۔ مگر ایسی صورت میں بھی ٹرمپ کے پاس ایران پر نئی پابندیاں عاید کرنے کا کوئی بہانہ نہیں بچتا۔ دوسری جانب چین، روس اور کئی دوسرے ممالک کی کمپنیاں، یورپی فرمیں اور بنک ایران کے ساتھ لین دین جاری رکھیں گے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کو فعال اور سخت ترین پابندیاں عاید کرنا ہوں گی۔

موثر آپشن

امریکا کے پاس تیسرا اور موثر چارہ کار یہ ہے کہ وہ کانگریس ایران کے جوہری معاہدے پر ٹرمپ کے خدشات پر بحث کرے اور علامتی نوعیت کے اقدامات کرے۔ اس طرح معاہدہ جوں کا توں برقرار رہے گا اور اس کا معاہدے پر کوئی حقیقی اثر نہیں پڑے گا۔