.

سعودی ولی عہد کا صومالی صدر کے نام تعزیتی پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے صومالیہ کے صدر محمد عبداللہ فرماجو کو بھیجے گئے پیغام میں دارالحکومت موگادیشو میں ہونے والے دو دہشت گرد دھماکوں میں کثیر ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

سعودی ولی عہد نے اپنے پیغام میں صومالی صدر، جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ اور برادر صومالی عوام کے لیے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اللہ رب العزت کے حضور زخمیوں کے جلد شفایاب ہونے کی دعا کی۔

ہفتے کے روز صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں ہونے والے دو خودکش دھماکوں میں 276 کے قریب شہری جاں بحق اور 300 سو سے زیادہ زخمی ہو گئے جن میں کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

صومالیہ میں ہونے والے ہلاکت خیز خودکش حملوں میں موگادیشو میں قطری سفارت خانے میں تعینات ناظم الامور بھی زخمی ہوئے جب کہ سفارت خانے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

صومالی وزیر اطلاعات عبدالرحمٰن یاریسو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی ذمے داری حرکت الشباب نامی عسکری گروپ پر عائد کی ہے۔ ماضی میں القاعدہ سے وابستگی رکھنے والا عسکری گروپ حرکت الشباب ایسے خودکش حملوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔

شورش زدہ افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں کیے گئے خودکش حملوں میں بارود سے بھرے ٹرک استعمال کیے گئے۔ کارروائی کے نتیجے میں کئی قریبی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ دھماکوں میں کئی مسافر بسیں اور ایک سو سے زائد گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق زیادہ ہلاک شدگان بسوں میں سوار تھے۔ حملے کے بعد تباہی و بربادی کے علاوہ ایک بہت بڑے علاقے میں انسانی اجزاء اور خون بکھرا ہوا تھا۔

موگادیشو کے میئر نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس شہر میں ہونے والے سب سے بڑے خودکش حملے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کا ملبہ صاف کرنے کے لیے زیادہ بلڈوزر درکار ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے سے مزید انسانی لاشیں مل سکتی ہیں۔

گری ہوئی عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا سلسلہ ہفتہ چودہ اکتوبر کی شام سے جاری ہے۔ موگادیشو کے میئر نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس شہر میں ہونے والے سب سے بڑے خودکش حملے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کا ملبہ صاف کرنے کے لیے زیادہ بلڈوزر درکار ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ عمارتوں کے ملبے کے نیچے سے مزید انسانی لاشیں دستیاب ہو سکتی ہیں۔

موگادیشو کے سکیورٹی اور طبی ذرائع نے تریپن افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق موگادیشو شہر کی پولیس کے سینیئر افسر محمد ظاہر نے ہلاکتوں کی تعداد 276 تک پہنچ گئی ہے۔ اس حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق زیادہ ترمرنے والے عام شہری ہیں۔

اس حملے میں کئی مسافر بسیں اور ایک سو سے زائد کاریں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق زیادہ ہلاک شدگان بسوں میں سوار تھے۔ حملے کے بعد تباہی و بربادی کے علاوہ ایک بہت بڑے علاقے میں انسانی اجزاء اور خون بکھرا ہوا تھا۔ بارود سے بھرے ہوئے ٹرک سے کیا گیا خود کش حملہ اتنا شدید تھا کہ دور دور تک کی عمارتوں کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئے تھے۔